کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے اور اس کہاوت کو کوئٹہ کے ہنر مندوں نے سچ کر دکھایا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں سردیوں کی آمد، موسم کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مزاج بھی بدلنے لگے
کوئٹہ کی وادیوں میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی گیس کی آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے گیزر ناکارہ ہو جاتے ہیں اور عوام کو ٹھنڈے اور خون جما دینے والے پانی کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
ایسے میں کوئٹہ کے کاریگروں نے عوام کی یہ مشکل حل کر دی ہے۔ ٹین کی چادر کی مدد سے تیار کردہ ان گیزروں کو کچھ اس انداز میں بنایا جاتا ہے کہ یہ کم گیس پر بھی چل جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ: شدید سردی کے باعث گیس پائپ لائن منجمد
مختلف کمپنیوں کے گیزر 30 سے 50 ہزار روپے کے درمیان دستیاب ہوتے ہیں لیکن دیسی ساختہ گیزر 3 سے 5 ہزار روپے میں مل جاتے ہیں جو نہ صرف قیمت میں کم بلکہ پائیداری میں بھی بہترین ہیں۔
دیسی ساختہ گیزر بنانے والوں کا کہنا ہے کہ جہاں یہ گیزر کم گیس کے مسئلے کو حل کرتا ہے وہیں اس کی قیمت بھی انتہائی مناسب ہے جو آرام سے ایک چھوٹے خاندان کی ضرورت کو پورا کردیتا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کا روایتی پکوان لاندی گھروں سے نکل کر ہوٹلوں تک جا پہنچا
مناسب قیمت کے باعث بھی یہ گیزر شہریوں کی اولین ترجیح ہے۔ اس کو بنانے میں صرف اسٹیل کی چادر استعمال ہوتی ہے جو نہ صرف وزن میں ہلکی بلکہ پائیداری میں بھی بہترین ہوتی ہے اس لیے کوئٹہ کے زیادہ تر شہری اس گیزر کو پسند کرتے ہیں۔













