وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بچوں کے عالمی دن پر منعقدہ واک کی قیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ آئندہ 3 سال میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد آدھی کر دی جائے، ورنہ یہ تعداد 5 سال میں 5 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: میں نے کچھ غلط نہیں کیا’ سیریز ایڈولینس پر ایک مختلف نقطہ نظر‘
انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ ڈیجیٹل لرننگ اسکولوں کے قیام میں تعاون کریں تاکہ غربت اور سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔
جب تک سخت سزائیں نہیں ملیں گی چائلڈ ابیوز کم نہیں ہوگا، سندھ واحد صوبہ ہے جس میں بچوں کو چائلڈ ابیوز سے بچنے کی تربیت دی جاتی ہے، بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تعلیم پر تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے، وزیراعلیٰ سندھ@sindhinfodepart @MediaCellPPP @AmirSaeedAbbasi pic.twitter.com/qau6udBxvV
— Media Talk (@mediatalk922) November 22, 2025
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے خصوصی قانون سازی کی گئی ہے اور کم عمر بچوں کی شادی پر قومی اسمبلی نے بھی پابندی کا بل پاس کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کے والد پر بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ
مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سرکاری اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نئے اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں اور چائلڈ ابیوز کے کیسز کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بچوں کو چائلڈ ابیوز سے بچانے کی تربیت دی جاتی ہے اور انہیں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سخت سزائیں اور تربیتی اقدامات ہی مستقبل میں بچوں کے حقوق کی حفاظت اور تعلیم کی بہتری کو یقینی بنا سکتے ہیں۔














