حکومت قومی اسمبلی کے اجلاس میں کورم پورا کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث اجلاس شروع ہوتے ہی ملتوی کرنا پڑ گیا۔ اجلاس کا آغاز ہوتے ہی پی ٹی آئی کے رکن محبوب جان نے کورم کی نشاندہی کی، جس پر اسپیکر سردار ایاز صادق نے کارروائی روک دی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹ اجلاس میں نیشنل ایگری ٹریڈ اتھارٹی بل اور صحافیوں کے مسائل پر غور
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت اور اتحادیوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 240 ہے جبکہ اجلاس کے لیے کم از کم 84 ارکان کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
سینیٹ کا اجلاس بھی کورم پورا نہ ہونے پر ملتوی
دوسری جانب سینیٹ میں بھی کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس جاری نہ رہ سکا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر ذیشان خانزادہ نے خطاب میں کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی تو ایوان کا اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے سینیٹر کو تنبیہ کی کہ اس طرح اجلاس کو روکنے کی دھمکیاں نہیں دی جاسکتیں۔ تاہم پی ٹی آئی ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے قومی اسمبلی اجلاس میں تعلیم، ہیلتھ اور ماحولیات کے اہم بل زیر غور
واک آؤٹ کے بعد سینیٹ میں کورم پورا نہ ہوسکا، جس پر چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا۔
دونوں ایوانوں میں یکے بعد دیگرے کورم نہ ہونے سے حکومت اور پارلیمانی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔













