آکسفورڈ یونین کے مباحثے میں پاکستانی طلبہ نے بھارت کے نئے پینل کو منطق اور دلائل سے شکست دے کر واضح برتری حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں:آکسفورڈ کی چانسلرشپ، عمران خان کیسے نااہل قرار پائے؟ برطانوی اخبار کی رپورٹ سامنے آگئی
مباحثے میں بھارت نے اپنی اصل ہائی پروفائل ٹیم کے انکار کے بعد جے سائی دیپک، پنڈت ستیش شرما اور دیورچن بنرجی پر مشتمل کم درجے کا نیا پینل پیش کیا، جبکہ پاکستان نے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس، سابق وزیر خارجہ یا ہائی کمشنر کی جگہ اوکسفورڈ کے طلبہ موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان کو میدان میں اتارا۔

ووٹنگ میں پاکستانی مؤقف کو دو تہائی اکثریت ملی، جس سے بھارت کے اسٹوڈنٹ پینل کے دلائل بھی ناکام رہے۔ طلبہ نے بھارتی پینل کے ’پاپولزم بطور سیکیورٹی پالیسی‘ کو اعداد و شمار اور قانون کی روشنی میں بے نقاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر احسن اقبال کی بڑی کامیابی، آکسفورڈ یونین کے تاریخی مکالمے میں اپنا مؤقف منوا لیا
یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کا فکری اور اخلاقی کیس عالمی تعلیمی فورمز پر مضبوط اور بااعتماد ہے، اور دلیل، قانون اور زمینی حقائق ہی بیانیے کی طاقت ہیں، نہ کہ شخصیات یا ہائی پروفائل نمائش۔














