3 ہفتوں سے ملاقات بند: عمران خان کے بیٹے کا ’ناقابلِ تلافی‘ واقعہ چھپانے کا الزام

پیر 1 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکام ان کے والد کی صحت سے متعلق ’کسی ناقابلِ تلافی‘ امر کو چھپا رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار اس وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی رہنما اور عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج اور دھرنے دے رہے ہیں، جہاں عمران خان سے گزشتہ 3 ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں‘، عمران خان کے بیٹے کی عالمی برادری سے اپیل

عدالتی حکم کے باوجود ہفتہ وار ملاقاتوں پر پابندی اور مبینہ جیل منتقلی کی افواہوں کے دوران قاسم نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو سابق وزیراعظم سے کوئی براہِ راست یا قابلِ تصدیق رابطہ نہیں مل سکا۔

’یہ نہ جاننا کہ آپ کے والد محفوظ ہیں، زخمی ہیں یا زندہ بھی ہیں یا نہیں، یہ ذہنی اذیت کی ایک شکل ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کئی ماہ سے عمران خان کے ساتھ کسی آزاد ذریعے سے تصدیق شدہ بات چیت نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں:عمران خان کی ’قید تنہائی‘، بیٹا قاسم خان ایک بار پھر چیخ اٹھا

قاسم کے مطابق آج ان کے پاس اپنے والد کی حالت کے بارے میں کوئی قابلِ تصدیق معلومات نہیں۔ ہمارا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ہم سے کچھ ناقابلِ تلافی چھپایا جا رہا ہے۔

خاندان کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالج کو بھی مزید سے زیادہ ایک سال سے ان کا طبی معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک جیل اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے اور انہیں کسی زیادہ سیکیورٹی والی جیل میں منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ علم میں نہیں۔

مزید پڑھیں: ہمارے والد کو سزائے موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں، رہائی کیلئے ٹرمپ سے اپیل کریں گے، عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

72 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ ان پر مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں جنہیں وہ اپنی 2022 کی عدم اعتماد کے ذریعے برطرفی کے بعد سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

ان کی پہلی سزا توشہ خانہ کیس میں سنائی گئی، جس میں سرکاری تحائف کی مبینہ غیرقانونی فروخت کا الزام تھا۔ بعد ازاں سائفر کیس میں 10 سال اور القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان مقدمات کا مقصد عمران خان کو عوامی زندگی اور 2024 کے انتخابات سے باہر رکھنا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟