امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ملک میں عام انتخابات کرانے کا مشورہ دیدیا ہے جس کے جواب میں یوکرینی صدر نے سیکورٹی کی ضمانت ملنے پر 2 سے 3 ماہ میں انتخابات کرانے کی ہامی بھر لی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں یوکرین کو مشورہ دیا ہے کہ ملک میں انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی عوام کو اپنے نمائندے چننے کا حق ملنا چاہیے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کو انتخابات نہ کرانے کے جواز کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ روس کو تنازع میں برتری حاصل ہے اور یوکرین اپنا بڑا حصہ کھو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ساتھ یوکرین پر ’سمجھوتے‘ طے پا گئے، روسی صدر پیوٹن کا انکشاف
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ ان کے مطابق یورپی ممالک جنگ بندی کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے، جس کے باعث امن معاہدہ انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
امریکا کی طرف سے اس دباؤ کے نتیجے میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک میں انتخابات کرانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور دیگر اتحادی سکیورٹی کی ٹھوس ضمانت دیں تو انتخابات آئندہ 60 سے 90 دنوں میں کرائے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے یوکرینی صدر کی 5 ماہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں دوسری ملاقات، اس بار کیا ہوا؟
زیلنسکی نے یہ بھی اعلان کیا کہ امن منصوبے سے متعلق نظرثانی شدہ دستاویز جلد امریکا کو پیش کر دی جائے گی۔
ان کے مطابق یہ نکات لندن میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ طے پائے، جبکہ امریکا یوکرین کے لیے حقیقی سکیورٹی گارنٹی چاہتا ہے۔














