او آئی سی اجلاس میں شریک وفود نے فلسطینی کاز کے لیے بنگلہ دیش کی مستقل اور اصولی حمایت کو سراہتے ہوئے او آئی سی کے متعدد رکن ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی صدارت کے لیے بنگلہ دیش کی امیدواری کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے جمعرات کو جدہ میں فلسطین سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم یعنی او آئی سی کے ایگزیکٹو اجلاس کے موقع پر مختلف اہم وفود کے سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے امیدوار نامزد کردیا
جن رہنماؤں سے انہوں نے ملاقات کی ان میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید اے الخریجی، ترکیہ کے نائب وزیر خارجہ موسیٰ کولاکلکایا، فلسطین کی وزیر خارجہ ورسن اوہانیس وارطان آغابیکیان اور گیمبیا کے وزیر خارجہ سیرنگ مودو نجی شامل تھے، جو اس وقت او آئی سی ایگزیکٹو اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
بی این پی کی کامیابی پر مبارکباد
ملاقات کرنے والے رہنماؤں نے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی فیصلہ کن انتخابی کامیابی اور منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں بنگلہ دیش سیاسی استحکام اور تیز رفتار معاشی ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔

وفود نے فلسطینی کاز کے لیے بنگلہ دیش کی مستقل اور اصولی حمایت کو سراہا، او آئی سی کے متعدد رکن ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی صدارت کے لیے بنگلہ دیش کی امیدواری کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔
پاکستان بنگلہ دیش تعلقات
ڈاکٹر خلیل الرحمان سے ملاقات میں اسحاق ڈار نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا سے گزشتہ برس ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ وزیراعظم طارق رحمان کو ذاتی طور پر مبارکباد دے سکیں۔
اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے تحت اسلام آباد اور ڈھاکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
ترکیہ کے ساتھ تعاون میں توسیع
ترکیہ کے نائب وزیر خارجہ موسیٰ کولاکلکایا نے ترکیہ اور بنگلہ دیش کے تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی، ڈاکٹر خلیل الرحمان نے روہنگیا مہاجرین کے لیے ترکیہ کی مسلسل انسانی امداد پر شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک نے اس بحران کے جلد اور پائیدار حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کو رمضان کے بعد بنگلہ دیش کے دورے کی دعوت بھی دی۔
سعودی عرب سے روابط اور وژن 2030
سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم طارق رحمان جلد مملکت کا دورہ کریں گے انہوں نے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو ریاض آنے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا وژن 2030 بنگلہ دیش کے لیے مختلف شعبوں میں نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے اور ریاض تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ بنگلہ دیشی وفد نے ملک میں سعودی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ دونوں ممالک نے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا۔

سعودی وزیر نے او آئی سی سیکریٹریٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مجوزہ اصلاحات میں بنگلہ دیش کی حمایت بھی طلب کی۔
فلسطین کے حق میں مضبوط مؤقف
فلسطینی وزیر خارجہ ورسن اوہانیس وارطان آغابیکیان سے گفتگو میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے فلسطینی عوام کے لیے بنگلہ دیش کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ منصفانہ اور دیرپا حل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے جو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔
فلسطینی وزیر خارجہ نے بنگلہ دیش کے مستقل مؤقف کو سراہتے ہوئے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے عرب و اسلامی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
روہنگیا مسئلہ اور گیمبیا کی حمایت
گیمبیا کے وزیر خارجہ سیرنگ مودو نجی سے ملاقات میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے میانمار کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں دائر مقدمے کے حوالے سے روہنگیا عوام کی وکالت پر گیمبیا کا شکریہ اداکیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل، قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب
دونوں رہنماؤں نے اپریل میں بغداد میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے دوران روہنگیا مسئلے پر ایک خصوصی تقریب منعقد کرنے پر اتفاق کیا، سیرنگ مودو نجی نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے بنگلہ دیش کی امیدواری کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے افریقی ممالک میں حمایت متحرک کرنے کا وعدہ کیا۔
ان ملاقاتوں میں بنگلہ دیش کے سینئر حکام بھی موجود تھے، جن میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر، سیکریٹری خارجہ سفیر ملا فرہاد حسین اور او آئی سی میں بنگلہ دیش کے مستقل نمائندے ایم جے ایچ جاوید شامل تھے۔













