اسلام آباد کے علاقے گولڑہ کی کچی آبادیوں میں مقامی افراد بشمول خواتین پر تشدد میں ملوث چینی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس نے گولڑہ تھانے میں مقدمہ درج کرکے 3 چینی شہریوں کو گرفتار کیا تھا۔ مقدمے کے مطابق مدعی محمد خان اور ان کا خاندان قریب جھگیوں میں عارضی طور پر رہائش پذیر تھے۔
یہ بھی پڑھیے: جدید پروسیسرز اسمگل کرنے کا الزام، 2 امریکی و 2 چینی شہری گرفتار
مدعی کے مطابق اس دوران 7 چینی باشندے وہاں آئے اور جھگیوں میں رہنے والی خواتین کی ویڈیو بنانا شروع کر دی، جس پر مدعی اور ان کے قبیلے کے دیگر افراد نے ان سے ویڈیو بنانے سے منع کیا۔
مدعی کے مطابق بارہا منع کرنے کے باوجود چینی شہری ویڈیو بناتے رہے، جس کے نتیجے میں جھگڑا شروع ہو گیا اور چینی شہریوں نے ان کی خواتین سمیت ان پر تشدد کیا۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: چینی شہریوں کو کرائے پر مکان دینا مالک مکان کو مہنگا پڑگیا
اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار چینی شہریوں کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا اور بعد ازاں عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ تاہم بعد میں مدعی نے عدالت میں ملزمان کے ساتھ راضی نامہ ہونے کا بیان دے کر مقدمہ واپس لے لیا، جس کے بعد تینوں چینی شہری رہا کر دیے گئے۔
مدعی محمد خان نے واضح کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر کسی قسم کا معاوضہ نہیں طلب کیا۔














