انسدادِ دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے حکومتی اقدامات، عدالتی رویوں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوف زدہ ہونے والی نہیں اور اپنے بھائی (بانی پی ٹی آئی) کا ہر حال میں ساتھ دیں گی۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم ان کے واٹر کینن سے گھبرانے والے نہیں، ہم اپنے بھائی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی ہیں اور اگر عدالت میں دیر سے پہنچیں تو غیر حاضری لگا دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’آواز بلند کرنا ضروری، ورنہ سب کی باری آئے گی‘، علیمہ خان کی صحافیوں کیخلاف مقدمات پر تشویش
علیمہ خان نے بتایا کہ بشریٰ بی بی سے 2 ماہ میں صرف 40 منٹ اور بانی پی ٹی آئی سے صرف ایک گھنٹہ ملاقات کی اجازت ملی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف پروپیگنڈا شرمناک ہے، جو کہتے ہیں خواتین رات 2 بجے کیا کر رہی تھیں، ہم اپنے حق کے لیے بیٹھی تھیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ چند مخصوص افراد چینی، گندم اور معدنیات کی درآمد و برآمد پر قابض ہیں اور عوام ان کی غلام بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا تاکہ وہ عوام کی بات نہ کر سکیں۔

علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں کہ آج آپ غلامی کر رہے ہیں، کل آپ کی نسلیں غلامی کریں گی۔
انہوں نے شکایت کی کہ ٹی وی اینکر پیشگی سزائیں سناتے ہیں کہ ’علیمہ خان کو 5 سال سزا ہوگی، اسی طرح بانی پی ٹی آئی کے بارے میں بتایا جاتا ہے، سزا بعد میں ہوتی ہے، پہلے ٹی وی پر بتا دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جج صاحبان کو گواہ بلانے کی زحمت کیوں دی جارہی ہے، سب کو پتا ہے کہ آرڈر تیار شدہ آتے ہیں۔ مزید کہا کہ آپ گولیاں چلائیں گے تو ہم شہید ہوں گے، ہم اب ڈرنے والے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان عارضی تحویل کے بعد ضمانت پر رہا
علیمہ خان نے کہا کہ جو خود غدار ہیں وہ دوسروں کو غدار کہتے ہیں اور یہ الزام ان کے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا دنیا کی نظر میں پاکستان کی عزت بلند ہوئی ہے اور بانی پی ٹی آئی نے ثابت کیا کہ ایک انسان ڈٹ کر کھڑا ہے۔
قبل ازیں 26 نومبر کے احتجاج کے خلاف درج مقدمے کی سماعت کے معاملے پر علیمہ خان اپنے وکلا کے ہمراہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئیں، جہاں عدالت نے ان کی عدم پیشی پر قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔














