وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیض حمید کے بعد ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے جنہوں نے نواز شریف سے اپیل کا حق چھینا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج تو بہت سے ججوں کے ضمیر جاگ رہے ہیں، لیکن جب نواز شریف کو نااہل کرنے کے بعد ایک ٹربیونل بنایا گیا، اور پھر اس پر ایک جج چوکیدار مقرر کردیا گیا، تب ججوں کے ضمیر کہاں تھے۔
مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟
وزیر دفاع نے کہاکہ 9 مئی عمران خان اور فیض حمید کا جوائنٹ وینچر تھا جب فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، عمران خان اکیلے یہ سب نہیں کر سکتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے جب جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے خلاف بات کی تو مجھے بلا کر کہا گیا کہ اس بیان کی مذمت کرو، آپ کے نیب کیسز ختم ہو جائیں گے، مگر میں نے انکار کردیا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ میں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہاکہ نواز شریف میرا لیڈر ہے، میں ایسا نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فوجی عدالت نے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے، جبکہ کچھ دیگر الزامات میں ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: فیض حمید سے ’فیض یاب‘ ہونے والوں کے لیے اچھی خبر نہیں، محمود مولوی نے تہلکہ مچا دیا
فیض حمید کے خلاف فوجی عدالت سے فیصلہ آنے کے بعد یہ خیال کیا جارہا ہے اب بانی پی ٹی آئی عمران خان کا بھی فوجی عدالت میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔














