وفاقی حکومت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 اے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت معیاری اور مساوی تعلیم کے فروغ کے لیے اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بلوچستان میں دانش اسکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان علاقوں کے انتہائی پسماندہ اور مستحق بچوں کو مفت، معیاری اور رہائشی تعلیم فراہم کرنا ہے۔
قومی اسمبلی نے دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 کثرتِ رائے سے 27 نومبر کو منظور کر لیا تھا، جس کے بعد بل سینیٹ سے بھی منظور کیا گیا اور وزیراعظم کے دستخط کے بعد اسے قانون کا حصہ بننے کے لیے صدرِ مملکت کو بھیج دیا گیا۔ تاہم صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بل کو صوبوں سے مشاورت کے لیے وزیراعظم کو واپس بھجوا دیا اور کہا کہ صوبوں میں دانش اسکولوں کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی حکومتوں سے مشاورت ضروری ہے۔ صدر کی ہدایت پر عمل کے بعد بل کو دوبارہ منظوری کے لیے صدر کو بھیجا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے دانش یونیورسٹی کی تعمیر: وزیراعظم شہباز شریف نے اہم ہدایات جاری کردیں
وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ دانش اسکولز اتھارٹی بل میں کیا ہے؟
بل کے متن کے مطابق پنجاب میں پہلے سے قائم دانش اسکولوں نے معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو معیاری تعلیم، کردار سازی اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کامیاب ماڈل کو وفاقی دارالحکومت اور دیگر خطوں تک توسیع دینا تعلیمی عدم مساوات کے خاتمے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بلوچستان میں دانش اسکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت کے تحت قائم کیے جانے والے دانش اسکولوں میں داخلہ میرٹ اور شفاف طریقۂ کار کے تحت دیا جائے گا، جبکہ ان اسکولوں کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔ طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ رہائش، صحت کی سہولیات اور تربیتی و اخلاقی نشوونما کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
بل کے مطابق دانش اسکولز کے مالی معاملات چلانے کے لیے اتھارٹی فنڈ تشکیل دیا جائے گا۔ اس فنڈ سے تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ منیجنگ ڈائریکٹر، اراکین، افسران، عملے، ماہرین اور کنسلٹنٹس کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی بھی کی جائے گی۔ فنڈ کو قواعد و ضوابط کے مطابق محفوظ رکھا جائے گا اور اسی کے تحت استعمال کیا جائے گا۔
اس فنڈ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے دی جانے والی گرانٹس، ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے حاصل ہونے والے قرضے اور عطیات، اتھارٹی کی منظور شدہ فیسیں اور چارجز، سرمایہ کاری اور جمع شدہ رقوم سے حاصل ہونے والی آمدن، منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی فروخت سے حاصل شدہ رقم اور عطیات شامل ہوں گے۔
قانونی مسودے کے تحت دانش اسکولز اتھارٹی کا سالانہ بجٹ منیجنگ ڈائریکٹر تیار کرے گا، جسے چیئرمین کی منظوری کے بعد اتھارٹی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اتھارٹی کے مالی حسابات قواعد کے مطابق مرتب اور برقرار رکھے جائیں گے۔
دانش اسکولز اتھارٹی بل کے مطابق دانش اسکولوں میں داخلہ مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر دیا جائے گا، تاہم مجموعی نشستوں میں سے صرف 10 فیصد طلبہ سے فیس اور دیگر اخراجات وصول کیے جائیں گے، جبکہ باقی طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف نے چترال میں دانش اسکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا
اسکول میں داخلے کے لیے سب سے زیادہ ترجیح مستحق اور نادار بچوں کو دی جائے گی۔ ترجیحی زمروں میں ایسے یتیم بچے شامل ہوں گے جن کے والدین دونوں وفات پا چکے ہوں اور کوئی سرپرست موجود نہ ہو، وہ یتیم بچے جو ایک والد یا والدہ کے ساتھ رہ رہے ہوں، اور وہ بچے جن کے والدین زندہ ہوں مگر ناخواندہ ہوں، غیر منقولہ جائیداد کے مالک نہ ہوں اور جن میں سے کوئی ایک معذور ہو اور ان کے پاس کوئی مستقل ذریعۂ آمدن موجود نہ ہو۔
بل کے مطابق گورننگ باڈی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ دانش اسکول کے کسی ملازم یا افسر کے بچے کو داخلہ دے سکے۔ داخلے کے لیے میرٹ کا تعین قواعد و ضوابط کے تحت مقرر کردہ معیار کے مطابق کیا جائے گا۔
قانون میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر اتھارٹی یہ سمجھے کہ گورننگ باڈی کا کوئی فیصلہ داخلے کے مقررہ معیار کے مطابق نہیں، تو وہ تحریری وجوہات کے ساتھ اس فیصلے میں ترمیم یا اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔














