بالی ووڈ فلم ’حق ‘ کے ہدایت کار سپرن ورما نے انکشاف کیا ہے کہ معروف بھارتی اداکارہ یامی گوتم نے فلم ’حق‘ میں اپنے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے اور حقیقت کے قریب تر انداز میں پیش کرنے کے لیے 4 ماہ تک قرآن مجید کا مطالعہ کیا۔
سپرن ورما کے مطابق فلم کی تیاری کے دوران ٹیم نے تقریباً ڈیڑھ سال تک اسلامی قانون پر تفصیلی تحقیق کی تاکہ کہانی کو درست اور ذمہ دارانہ انداز میں پیش کیا جا سکے۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی مسلم دوستوں کے ساتھ گزاری ہے اور ایک بھارتی ہونے کے ناتے ان کے لیے ایک ذمہ داری محسوس کی۔
View this post on Instagram
سپرن ورما نے مزید کہا کہ میں 3 طلاق کے بارے میں عام غلط فہمی کو دور کرنا چاہتا تھا۔ میں یہ سمجھنا چاہتا تھا کہ مہر کا وجود خواتین کے لیے شادی سے پہلے کیے جانے والے ایک معاہدے کے طور پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں معلومات کی بھرمار ہے، تاہم اس میں درست اور غلط کی تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اسی تناظر میں فلم ’حق‘ کو ایک متوازن اور حقیقت پر مبنی بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام قبول کرنے والی امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ کی قرآن کی خوبصورت تلاوت، ویڈیو وائرل
فلم کی کہانی 1970 کی دہائی کے بھارت میں شازیہ بانو نامی ایک خاتون کے گرد گھومتی ہے جو ایک وکیل کی بیوی ہوتی ہے۔ شوہر کی جانب سے دوسری شادی اور طے شدہ نان نفقہ ادا نہ کرنے کے بعد وہ قانونی چارہ جوئی کرتی ہے جس کے نتیجے میں اسے طلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ فلم دراصل شاہ بانو بیگم کے حقیقی مقدمے سے متاثر ہے جنہوں نے 1985 میں بھارت کی سپریم کورٹ میں اپنے حق میں فیصلہ حاصل کیا تھا۔ یہ مقدمہ بھارتی مسلم خواتین کے حقوق کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’انشااللہ‘ کہنے کے بعد معروف ہالی ووڈ اداکارہ این ہیتھ وے کو قرآن کا تحفہ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
ہدایتکار کے مطابق فلم نہ صرف تاریخی واقعے کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس امر کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود خواتین کو معاشرتی سطح پر آج بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فلم کو ناظرین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی ہے، جو ان کے لیے توقع سے کہیں زیادہ تھی۔













