امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ یہ کارروائیاں اس حملے کے بعد کی جا رہی ہیں جس میں گزشتہ ہفتے شام کے شہر پالمیرا میں دو امریکی فوجی اور ایک مترجم ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ فوجی کارروائی ’انتقام کا اعلان‘ ہے جس میں داعش کے متعدد جنگجو ہلاک کیے گئے۔
🚨 BREAKING: President Trump and SecWar Pete Hegseth just launched "MAJOR" military strikes against ISLAMIC TERRORISTS in Syria after the ambush of our troops
The attack is reportedly "MASSIVE" and lasting several hours.
God bless the troops! 🇺🇸
Fighter jets, attack… pic.twitter.com/goCVWn0V1h
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) December 19, 2025
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ داعش کے ہاتھوں امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد کارروائی ناگزیر تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا شام میں داعش کے مضبوط ٹھکانوں پر شدّت سے حملہ کر رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شام کی نئی حکومت نے بھی امریکی حملوں کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شام: امریکی اور شامی فوجیوں پر گشت کے دوران فائرنگ، 2 اہلکاروں سمیت 3 امریکی ہلاک
شام کی وزارت خارجہ نے بیان دیا کہ ملک میں داعش کو کسی صورت پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ وزارت کے مطابق امریکا اور اتحادی ممالک داعش کے خلاف شام کی کارروائیوں کا حصہ بنیں۔
’یہ انتقام ہے، جنگ نہیں‘
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا کہ کارروائی کو ’آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جنگ کا آغاز نہیں بلکہ ’انتقام کا اعلان‘ ہے اور امریکی فورسز داعش کے جنگجوؤں، اسلحہ گوداموں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

امریکی سینٹکام کا کہنا ہے کہ لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور آرٹلری کی مدد سے سو سے زائد درست اہداف نشانہ بنائے گئے۔ اردن کی فضائیہ بھی ان حملوں میں شریک ہے۔
اعلیٰ امریکی حکام کے مطابق شام کے مرکزی علاقوں میں متعدد داعش اہداف تباہ کیے گئے، تاہم ہلاکتوں کی تعداد تاحال سامنے نہیں آئی۔
امریکی اہلکاروں کی ہلاکت
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پالمیرا شہر میں امریکی اور شامی فورسز کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں دو امریکی نیشنل گارڈ اہلکار اور ایک مترجم ہلاک ہوئے تھے۔ امریکا نے واقعے کا ذمہ دار داعش کو ٹھہرایا تھا اور واضح ردعمل دینے کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ اس وقت شام میں تقریباً ایک ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جو برسوں سے داعش کے خاتمے کے آپریشن کا حصہ ہیں۔ امریکا اور اتحادی ممالک وقفے وقفے سے داعش کے خلاف فضائی و زمینی کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں۔














