چیٹ جی پی ٹی صارفین کیا تلاش کرتے ہیں؟ اوپن اے آئی کا بڑا انکشاف

پیر 22 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے دنیا بھر میں انسانی طرزِ زندگی کو تیزی سے بدل دیا ہے اور سال 2025 کے اختتام تک چیٹ بوٹس خصوصاً چیٹ جی پی ٹی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔

تازہ رپورٹس کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 80 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، جو دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کس طرح سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں، زیرو ڈے ولنیبریٹی کیا ہے؟

نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ (NBER) اور اوپن اے آئی کی جانب سے کی گئی اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی تقریباً ایک دسویں آبادی کسی نہ کسی شکل میں چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہی ہے۔ یہ تحقیق عالمی سطح پر اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو واضح کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے ابتدائی صارفین کی اکثریت مردوں پر مشتمل تھی۔ ٹول کے اجرا کے بعد ابتدائی مہینوں میں تقریباً 80 فیصد ہفتہ وار صارفین کے نام روایتی طور پر مردانہ تھے۔ تاہم جون 2025 تک اس رجحان میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی اور صارفین میں خواتین کی نمائندگی زیادہ ہو گئی جسے محققین نے ایک ’ڈرامائی تبدیلی‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی استعمال کرنے والوں کو پی ٹی اے نے نئی ہدایات جاری کردیں

ٹائم میگزین کے حالیہ تجزیے کے مطابق چیٹ جی پی ٹی اب تاریخ کی تیزی سے ترقی کرنے والی کنزیومر ایپس میں شامل ہو چکا ہے جس کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 800 ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔

اوپن اے آئی کی جانب سے جمع کیے گئے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کا 70 فیصد سے زائد حصہ کام سے ہٹ کر ذاتی نوعیت کا ہے۔ صارفین کی جانب سے کی جانے والی اہم ترین درخواستوں میں ای میلز، سوشل میڈیا پوسٹس، اشتہاری مواد، پروڈکٹ کی تفصیلات اور موجودہ تحریر کو بہتر بنانا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: این ویڈیا نے خودکار ڈرائیونگ کے لیے اے آئی ماڈل متعارف کرادیا

اس کے علاوہ کاروباری نام، مارکیٹنگ مہمات، نعرے اور تخلیقی کہانیوں کے آئیڈیاز تیار کرنا۔ مضامین، میٹنگ نوٹس اور طویل دستاویزات کو مختصر اور جامع نکات میں تبدیل کرنا۔ کھانا پکانے، خطوط تحریر کرنے اور روزمرہ امور سے متعلق ہدایات حاصل کرنا۔ طلبہ کی جانب سے اسباق کی وضاحت، ہوم ورک میں مدد اور آن لائن ٹیوشن کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال بھی شامل ہے۔

تاریخی واقعات، کھیلوں کے ریکارڈز، تعلیمی ڈیٹا اور دیگر حقائق پر مبنی سوالات۔ کیریئر، انٹرویوز، تعلقات اور ذاتی ترقی سے متعلق رہنمائی جیسے سوالات بھی چیٹ جی پی ٹی پر سب سے زیادہ پوچھے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ’اے آئی ایٹمی طاقت جیسی، نیا عالمی ’اے آئی کلب‘ بن رہا ہے‘

ایڈوب ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کا استعمال تمام عمر کے طبقات میں یکساں طور پر مقبول ہے ان میں جنریشن ایکس کا استعمال 80 فیصد، جنریشن زی 77 فیصد، ملینیئلز 75 فیصداور بے بی بومرزکا استعمال 74 فیصد ہے۔

سروے کے مطابق امریکہ میں 77 فیصد افراد چیٹ جی پی ٹی کو سرچ انجن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہر چار میں سے ایک شخص روایتی سرچ انجنز پر اے آئی کو ترجیح دیتا ہے۔

54 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی پیچیدہ موضوعات کو مختصر اور آسان انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ 33 فیصد کے مطابق یہ کم کلکس کے ساتھ تیز تر جوابات فراہم کرتا ہے۔ صارفین یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ اے آئی کی جانب سے دیے گئے جوابات زیادہ ذاتی اور ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں