میانمار میں تقریباً 4 برس قبل فوجی بغاوت کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کا آغاز ہو گیا ہے، تاہم جاری خانہ جنگی، سیاسی پابندیوں اور شفافیت پر سوالات کے باعث ان انتخابات کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ فوجی حمایت یافتہ جماعت کی فتح متوقع بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے میانمار کے شہریوں کے لیے عارضی قانونی اسٹیٹس ختم کر دیا
رائٹرز کے مطابق میانمار میں اتوار کے روز عام انتخابات کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا، جو 3 مرحلوں میں مکمل ہوں گے۔ یہ انتخابات 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد منعقد ہو رہے ہیں، جس میں منتخب سول حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ووٹنگ ملک کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر ایک نئی شروعات کا موقع فراہم کرے گی۔
Myanmar polls open amid civil war, junta-backed party tipped to win – Asia & Pacific – The Jakarta Post #jakpost https://t.co/0vslz6gh78 pic.twitter.com/cgB2RVPslo
— The Jakarta Post (@jakpost) December 28, 2025
تاہم ناقدین, جن میں اقوام متحدہ، مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل ہیں، ان انتخابات کو آزاد، منصفانہ اور قابلِ اعتبار قرار دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ فوج مخالف سیاسی جماعتیں انتخابی عمل سے باہر ہیں، جس کے باعث حقیقی عوامی نمائندگی ممکن نہیں۔
میانمار کی سابق رہنما اور نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی تاحال حراست میں ہیں، جبکہ ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔ 2020 کے انتخابات میں اسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فوج سے قریبی تعلق رکھنے والی یونین سالیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اس انتخاب میں سب سے مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس نے محدود مقابلے میں بڑی تعداد میں امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب فوجی اقتدار کو طول دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انتخابات 3 مرحلوں میں 330 میں سے 265 قصبوں میں کرائے جا رہے ہیں، تاہم حکومت کو تمام علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں، کیونکہ کئی خطوں میں مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان کی تاریخوں کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:میانمار: بدھ مت پیروکاروں کے فیسٹیول پر فوج کا پیرا گلائیڈر حملہ، 24 افراد ہلاک، 47زخمی
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ تشدد اور جبر کے ماحول میں شفاف انتخابات ممکن نہیں، کیونکہ اظہارِ رائے، اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی موجود نہیں۔
🇲🇲🇨🇳Beijing’s vote of confidence for Myanmar polls.
Myanmar's military-run elections are being pilloried abroad and shunned at home, but neighbouring China has emerged as an enthusiastic backer of the pariah poll.https://t.co/XfEIjTI3XF pic.twitter.com/fEZoM7mQsF
— AFP News Agency (@AFP) December 24, 2025
دوسری جانب سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ملک کو بحران سے نکال کر امن اور معاشی بحالی کی جانب لے جائیں گے، تاہم بڑے شہروں میں انتخابی سرگرمیاں ماضی کے مقابلے میں خاصی ماند دکھائی دے رہی ہیں۔ کئی ووٹرز کا کہنا ہے کہ نتائج پہلے ہی طے شدہ محسوس ہوتے ہیں، جس کے باعث عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جاری تنازع، کمزور معیشت اور محدود سیاسی آپشنز کے باعث کسی بھی نئی حکومت کو عالمی سطح پر وسیع قبولیت ملنا مشکل ہو گا، چاہے وہ بظاہر سول ہی کیوں نہ ہو۔











