اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے فیصلے پر پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک نے مشترکہ طور پر سخت مذمتی اعلامیہ جاری کر دیا۔
جاری اعلامیے پر پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ اور سوڈان کے علاوہ ترکیہ، یمن، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا اور مالدیپ بھی دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:صومالیہ، انتہا پسند الشباب کا ساحل پر حملہ، 32 افراد ہلاک
دفتر خارجہ کے مطابق نائجیریا، عمان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی اس مشترکہ مؤقف کی حمایت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مذمتی اعلامیے میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش شامل نہیں، کیونکہ یہ تینوں ممالک پہلے ہی امریکی سرپرستی میں ہونے والے معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کر چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ اعلامیہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں اسرائیل کے اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا افریقہ کے ہارن اور بحیرہ احمر کے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو متاثر کرنے والا کوئی بھی اقدام ناقابلِ قبول ہے۔ ریاستوں کے حصوں کو تسلیم کرنے کی روش عالمی امن کے لیے خطرناک مثال قائم کرتی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فیصلہ عالمی امن و سلامتی کے لیے شدید خطرات کو جنم دے سکتا ہے اور یہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صومالیہ میں امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت مارا گیا
بیان میں فلسطینیوں کی ممکنہ جبری بے دخلی سے اس فیصلے کے کسی بھی تعلق کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے زبردستی نکالنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ اسلامی ممالک اور او آئی سی صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حق میں متفقہ اور واضح مؤقف رکھتے ہیں۔














