امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ فلوریڈا میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت ہوئی ہے، تاہم امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ علاقائی معاملہ تاحال ’حل طلب‘ ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 20 نکاتی فریم ورک پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فلوریڈا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد 90 فیصد اتفاق رائے ہو چکا ہے، جس میں سیکیورٹی ضمانتیں ابھرتے ہوئے منصوبے کا مرکزی جزو قرار دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ، امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے دستبردار ہو، زیلنسکی کا انکشاف
یہ بات دونوں رہنماؤں نے مار-اے-لاگو میں صحافیوں سے مشترکہ گفتگو کے دوران کہی۔
I thank @POTUS Donald Trump for a great meeting. We had a substantive discussion on all issues, and we much appreciate the progress achieved by American and Ukrainian teams in recent weeks. Special thanks to Steve Witkoff and Jared Kushner for their engagement and full… pic.twitter.com/cDAC2LFl6K
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) December 28, 2025
صدر زیلنسکی نے بتایا کہ مذاکرات میں امن فریم ورک کے تمام پہلوؤں پر بات ہوئی اور آئندہ اقدامات کی ترتیب پر بھی اتفاق ہوا۔ ’ہم نے نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ پائیدار امن کے حصول کے لیے سیکیورٹی ضمانتیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان دوطرفہ سیکیورٹی ضمانتوں پر سو فیصد اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ وسیع تر ضمانتیں تقریباً طے پا چکی ہیں۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطابق دونوں وفود کے درمیان سیاسی انتظامات، سیکیورٹی وعدے اور آئندہ مراحل کی ترتیب سمیت 20 نکاتی منصوبے کے بیشتر نکات پر وسیع اتفاق رائے حاصل ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: لڑائی کی خواہش نہیں لیکن جنگ چھڑ گئی تو مکمل تیار ہیں، پیوٹن کی یورپی ممالک کو تنبیہ
انہوں نے دونوں ٹیموں کے ارکان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، اور یوکرینی حکام رستم عمروف اور آندری ہناتوف کا نام لیا۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ فریقین اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ آئندہ ہفتے ورکنگ لیول کی ٹیمیں مذاکرات جاری رکھیں گی تاکہ زیرِ بحث تمام امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے تحت جنوری میں واشنگٹن میں یوکرینی اور یورپی رہنماؤں کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
صدر زیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین امن کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی معاہدے کی بنیاد واضح اصولوں پر ہونی چاہیے اور وہ یوکرینی عوام کے مؤقف کی عکاسی کرے۔
20 نکاتی امن منصوبے میں شامل امور
20 نکاتی امن منصوبے کے تحت فریقین کے درمیان متعدد اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے، منصوبے میں سب سے نمایاں پہلو سیکیورٹی ضمانتوں کا ہے، جہاں امریکا اور یوکرین کے درمیان دوطرفہ سیکیورٹی ضمانتوں پر مکمل اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ یورپ، امریکا اور یوکرین پر مشتمل وسیع تر سیکیورٹی انتظامات بھی تقریباً طے پا گئے ہیں۔
فوجی معاملات کے حوالے سے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اس پہلو پر بھی فریقین کے درمیان مکمل ہم آہنگی حاصل ہو چکی ہے۔ تاہم امن منصوبے کے تحت خوشحالی اور جنگ کے بعد بحالی سے متعلق منصوبوں کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں مزید مشاورت جاری ہے۔
حل طلب امور
سیکیورٹی انتظامات میں پیش رفت کے باوجود علاقائی مسئلہ سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض علاقے آئندہ مہینوں میں زیرِ بحث آ سکتے ہیں اور ڈونباس سمیت کچھ علاقوں پر اختلافات کو دور کرنا ہوگا۔
تاہم صدر زیلنسکی نے کہا کہ علاقے کے معاملے پر یوکرین کا مؤقف بالکل واضح ہے اور یہ یوکرینی قانون اور عوامی خواہشات پر مبنی ہے، ان کے مطابق کیف اور ماسکو کے درمیان زمین کے مسئلے پر اب بھی ’مختلف مؤقف‘ موجود ہے۔
مزید پڑھیں:جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟
کسی بھی ممکنہ علاقائی رعایت یا ٹائم لائن کے بارے میں دونوں رہنماؤں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، جبکہ جنگ بندی کے وقت سے متعلق بھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ دونوں نے مذاکرات کو حتمی کے بجائے جاری عمل قرار دیا۔
صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ہم نے تمام امور پر سنجیدہ گفتگو کی اور گزشتہ ہفتوں میں یوکرینی اور امریکی ٹیموں کی پیش رفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
یہ ملاقات حالیہ مہینوں میں یوکرینی اور امریکی حکام کے درمیان رابطوں کے سلسلے کی کڑی ہے، جن میں سیکیورٹی تعاون، طویل المدتی ضمانتوں اور ممکنہ تصفیے کی شرائط پر توجہ دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: جنگ شروع کی تو مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا، پیوٹن کی یورپ کو سخت وارننگ
صدر ٹرمپ کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رہیں گے، جبکہ مسودہ تجاویز تیار ہونے کے بعد سیاسی بات چیت دوبارہ شروع کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور باقی ماندہ اختلافی نکات، خصوصاً علاقائی امور اور مستقبل کی ضمانتوں میں بین الاقوامی شمولیت، پر مرکوز ہوگا، اور یوکرین کو یورپی شراکت داروں سے ’تعمیری تعاون‘ کی توقع ہے۔













