وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنی لیسکو کے بعض اہلکاروں کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاؤں میں جل جانے والے ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے اہلکاروں نے 80 ہزار روپے وصول کیے، مگر اس رقم کی کوئی سرکاری رسید جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک وفاقی وزیر کی سفارش کے باوجود یہ صورتحال ہے تو عام صارفین کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
https://x.com/KhawajaMAsif/status/2060790268518146090
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاؤں کا ٹرانسفارمر مکمل طور پر جل گیا تھا، جس پر انہوں نے لیسکو کے ایک سابق چیف ایگزیکٹو افسر سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ متعلقہ عملے کو مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی جائے۔
خواجہ آصف کے مطابق لیسکو کے اہلکاروں نے ٹرانسفارمر کی مرمت تو کر دی، تاہم اس کے عوض 80 ہزار روپے وصول کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاؤں کے لوگوں نے چندہ جمع کرکے یہ رقم ادا کی، لیکن کسی فرد کو اس ادائیگی کی کوئی رسید نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:واپڈا کی پن بجلی کی پیداوار پیک آورز کے دوران 6ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگئی
وزیر دفاع نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بعد ازاں لیسکو نے رسید نہ ہونے کی بنیاد پر اس ادائیگی سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ رقم نقد ادا کی گئی تھی اور مقامی افراد اس کے گواہ ہیں، تاہم سرکاری دستاویز نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ متنازع بن گیا ہے۔
خواجہ آصف نے اس واقعے کو بجلی کے شعبے میں موجود مسائل کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک سابق وفاقی وزیرِ توانائی، جو اس وقت بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں، کی سفارش کے باوجود اس نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں تو عام صارفین کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے معاملے کی تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ خواجہ آصف کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں مبینہ بدعنوانی، غیر رسمی وصولیوں اور صارفین کو درپیش مسائل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
تاہم اس معاملے پر لیسکو کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔












