عورت کو آسان ہدف سمجھنے والے کمزور

اتوار 31 مئی 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وسیم اکرم کی اپنے باؤلنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔  بلکہ بات اب تبصروں سے بڑھ کر نظریاتی یدھ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اس  سے ہم اپنی فکری ’گہرائیوں‘ کا اندازہ بھی کر سکتے ہیں۔

وسیم اکرم کے ساتھ حج پر جانے والے معروف گلوکار اور اینکر فخر عالم بھی ان کے ناقدین کے رگڑے میں آگئے ہیں بلکہ ان پر کی گئی چوٹ کی زد ان کے خاندان تک پہنچتی ہے۔

فخرعالم پر زبانِ طعن دراز کرنے والے ایک صاحب  نے سوشل میڈیا پر ان کا تذکرہ اس پیرائے میں کیا ہے: ’اور تو اور، عروسہ عالم کا لڑکا فخر عالم بھی سعید بھائی کے استخارے کا شکار ہوگیا۔
‘۔

یہ ایک پست بات ہے۔

معروف صحافی عروسہ عالم کی شخصیت کس قدر بھی متنازع ہو، اس قضیے میں ان کو بیچ میں لانا توہین آمیز ہے۔

فخر عالم معروف شخصیت ہیں، ان کے کسی عمل کو پرکھتے ہوئے ان کے گھر کی خواتین کو پُنا جائے یہ قابل مذمت ہے۔

فخر عالم 10 سال پہلے اپنی ذات پر اس سے کہیں زیادہ کاری وار سہہ چکے ہیں، اس میں ان کی والدہ کے بجائے نانی کی ذات کو ہتک کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بدرالدین بدر، معروف ادیبوں کا ایک فراموش کردہ دوست

سنہ 2016 میں امجد صابری کے قتل کے بعد فنکاروں کے تحفظ سے متعلق ان کے اٹھائے گئے جائز سوال پر پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے سوال کا جواب دینے کے بجائے بدتہذیبی کرتے ہوئے بڑی رعونت سے فرمایا تھا کہ ’کون فخر عالم جنرل رانی کا نواسہ؟‘

اس وقت فخر عالم سندھ سنسر بورڈ کے چیئرمین تھے جنہیں پیپلز پارٹی نے ہی اس عہدے پر فائز کیا تھا۔ شہلا رضا کے بیان کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔ فنکاروں نے شہلا رضا کے بیان کی مذمت کی تھی۔

افسوس کی بات ہے اس بے ہودہ بیان کو سراہنے والے بھی موجود تھے۔

شاعر اور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی نے نوائے وقت میں اپنے کالم میں شہلا رضا کے اس ’قول زریں‘ کا تذکرہ بڑی خوشی سے مزے لے لے کر کیا تھا۔  ان کو یوں لگا ’جیسے یہ کسی صاحب طرز کالم نگار نے کہا ہو‘۔

فکرِ ہر کس بقدرِ ہمتِ اوست

اجمل نیازی کے برعکس معروف ادیب مسعود اشعر کو شہلا رضا کے جملے پر بڑا رنج ہوا۔

انہوں نے جنگ اخبار میں اپنے کالم میں لکھا تھا:

’کون فخر عالم؟ اچھا، وہ جنرل رانی کا نواسہ؟‘ یہ کہا پیپلز پارٹی کی رہنما اور سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے۔ امجد صابری کے قتل کے بعد ان سے سوال کیا گیا تھا کہ فخر عالم نے وزیروں، سفیروں اور بڑے بڑے سیاست دانوں کی طرح فن کاروں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس پر آپ کا کیا خیال ہے؟ اب بجائے اس کے کہ وہ فن کاروں کو تحفظ فراہم کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں جواب دیتیں، انہوں نے ایسی بات کر دی جس کی توقع کسی بھی معقول انسان سے نہیں کی جا سکتی۔ ان کے لہجے سے صاف حقارت جھلک رہی تھی۔ شہلا رضا کے بارے میں مجھے خوش فہمی تھی کہ وہ متمدن، مہذب اور معقول خاتون ہوں گی مگر اس جواب یا اس سوال نے میری آنکھیں کھول دیں۔‘

مزید پڑھیے: زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز

خواتین کے بارے میں جملے کسنا، نازیبا بات کہنا ہمارے قومی خمیر میں شامل ہے، اس میں کسی خاص فکری و سیاسی حلقے کے لوگوں کو ماخوذ نہیں کیا جاسکتا، اس حمام میں سب ننگے ہیں۔

کراچی کے اخبار ’امت‘ کا عورت مارچ کے لیے متحرک خواتین کے لیے بازاری لفظ سرخیوں میں چھاپنا زیادہ پرانی بات نہیں۔

سنہ 1990 میں الطاف حسین نے ممتاز صحافی اور نیوز لائن کی دلیر ایڈیٹر رضیہ بھٹی اور ان کے رفقا کو سرعام برا بھلا کہا تھا۔

اس کے بارے میں کئی صحافیوں نے لکھا ہے جس میں ایک معتبر گواہی معروف صحافی ضمیر نیازی کی ہے جنہوں نے رضیہ بھٹی پر اپنے مضمون ’لاؤ تو قتل نامہ ذرا…‘ میں لکھا تھا :

’ 20  اکتوبر 1990  کو نیوز لائن نے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور نگران وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے نام اس مضمون کا پیغام بہ عجلت کارروائی کے لیے بھیجا جس میں ان کی توجہ الطاف حسین کی جانب سے نیوز لائن کے ادارتی عملے کے خلاف گالیوں سے بھری نہایت رکیک زبان استعمال کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔ انہیں وہ ‘کتے اور حرام زادے’کہا گیا تھا جنھوں نے ‘ایک بوتل شراب کے عوض اپنے قلم بیچ دیے تھے’ اور یہ دھمکی دی گئی تھی کہ انہیں سبق سکھایا جائے گا‘۔

تاریخ میں آپ نے اگر بہت پیچھے جانا ہے تو اس کی بھی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ مولانا ظفر علی خان کے ’زمیندار‘ میں عبدالمجید سالک نے ’افکار و حوادث‘ کے عنوان  سے اپنے کالم میں 1924 میں معروف سیاست دان اور مسلم لیگ کے لیڈر سر محمد شفیع کے گھر کی خواتین کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی تھی۔

خواتین کی بارے میں بدزبانی کی ایسی مثالیں صحافت کے علاوہ ادب میں بھی گزر چکی ہیں۔

ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور اردو فکشن کا معتبر نام ہیں۔ دونوں بہنیں باوقار اور مہذب تھیں لیکن ان کے بارے میں ایک دفعہ  ن م راشد نے ایسی سوقیانہ بات کہی تھی جسے سن کر احمد ندیم قاسمی کو انہیں تھپڑ مارنے کا خیال آیا تھا۔

دوسری طرف سنہ 1949 میں کل پاکستان انجمن ترقی پسند مصنفین کانفرنس، لاہور میں ہوئی تو شورش کاشمیری کے ’چٹان‘ نے اپنے کارٹون میں فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی و دیگر کو سازندوں اور گویوں کے روپ میں جبکہ ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کو پیروں میں گھنگرو باندھے رقص کرتے دکھایا تھا۔

مخالف کو نیچا دکھانے یا اس پر طعن کرنے کے لیے خواتین کی تذلیل اور تحقیر کرنے کا یہ مرض دیرینہ ہے اور اس میں ہر مکتب فکر کے لوگ شامل ہیں۔ سیاست، صحافت اور ادب کی تاریخ سے ایسی پستیوں کا ریکارڈ جمع کیا جائے تو دفتر کے دفتر سیاہ ہوجائیں۔

مزید پڑھیں : کتابوں کا عاشق افسانہ نگار

اس کے ساتھ ہی یہ افسوس ناک حقیقت بھی تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ عورت کو آسان ہدف سمجھنے کے اس رویے کو  بڑے پیمانے پر تائید بھی میسر آتی ہے اور اسی سے دریدہ دہنی کی روایت آگے بڑھتی رہی ہے۔

عورتوں کے حقوق کی تحریکوں اور قانون سازی سے خواتین کے لیے فضا کچھ بہتر تو ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود بقول محمد سلیم الرحمٰن:

 ’بہ نظر غور دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نفرت یا تضحیک تو حسبِ سابق موجود ہیں لیکن انہیں چھدری شائستگی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی گئی ہے‘۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp