بڑے شہر نگل جاتے ہیں

جمعہ 29 مئی 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ کوئی تیس برس پہلے کا قصہ ہے، میں احمدپور شرقیہ سے لاہور آچکا تھا۔ اس زمانے میں رواج تھا کہ باہر سے آنے و الے اکثر لڑکوں کی جائے پناہ لاہور کی یونیورسٹیوں کےہاسٹلز ہوا کرتے تھے، جہاں وہ اپنے دوستوں یا عزیز رشتے دار طلبہ کے ساتھ کچھ عرصہ ٹھیر کر بعد میں اپنا کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ لیتے۔ میں لاہور میں اپنے قیام کے ابتدائی ڈیڑھ برس علامہ اقبال میڈیکل کالج کے مختلف ہاسٹلز میں رہا۔ یہ میرے زندگی کےخوبصورت ترین دن تھے۔ کبھی ان دنوں کی روداد لکھوں گا۔

   شام کو ہاسٹل کی کینٹن پر چائے پینے دوستوں کے ساتھ جایا کرتے۔ ایک ہاسٹل فیلو کا بڑا بھائی آیا ہوا تھا، ان سے دو تین ملاقاتیں ہوئیں، گپ شپ لگتی رہی۔ وہ شاید  اوکاڑہ یا ساہی وال کے رہنے والے تھے۔ چند دنوں کے بعد  واپس چلے گئے۔ کوئی سال بعد دوست کے انہی بڑے بھائی کا دوبارہ لاہور کا چکر لگا۔ معمول کے مطابق ہم شام کو چائے پینے کینٹین میں اکھٹے ہوئے، دوبارہ گپ شپ لگی۔ پہلے دن تو انہوں نے تامل کیا، دوسرے دن کہنے لگے ایک بات کہوں اگر آپ برا نہ مانیں۔ میں نے عرض کی، ضرور بتائیں۔

   وہ صاحب کہنے لگے، یار آپ پہلے سے بدل گئے ہیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا، کیسے؟ بولے، پتہ نہیں، مگر پچھلی بار جب آیا تھا تو آپ میں ایک خاص قسم کی کیوٹ سی معصومیت اور سادگی تھی، اب وہ نہیں ہے۔ اب آپ سمارٹ ہو گئے ہیں، شائے بھی نہیں رہے، تڑاخ سے جواب دے دیتے ہیں۔ میں نے ہنس کر کہا، لاہور شہر میں پورا ایک سال گزار دیا ہے،اتنا بھی نہ ہو۔

    بات ختم ہوگئی، مگر رات کو اس پر سوچتا رہا۔ سچ بتاؤں تو ان کی بات نے ایک ایسی چبھن دی جو اب تک یاد ہے۔

   ہمارے ہاں بڑا شہر ایک عجیب شے ہے۔ یہ روزی روٹی دیتا ہے، عہدہ دیتا ہے، سہولتیں دیتا ہے، گاڑی، گھر، سوشل سرکل، سب کچھ، مگر ساتھ ہی یہ آپ سے کچھ ایسا چھین لیتا ہے جو واپس نہیں ملتا۔ ادارہ شماریات پاکستان کے انیس سو بہتر کے سرکاری اعداد و شمار میں لاہور کی آبادی اٹھارہ لاکھ تھی۔ آج یہ تعداد ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے یعنی پچاس برس میں سات گنا اضافہ۔ یہی صورت حال کراچی کی ہے،جس کی آبادی پچھلے چالیس برسوں میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ دو ہزار سترہ کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں اندرونی ہجرت کرنے والوں کی تعداد سینتالیس لاکھ تھی، یعنی تقریباً پچاس لاکھ پاکستانی اپنے گاؤں قصبے چھوڑ کر بڑے شہروں میں آ بسے ہیں۔

   یہ ہجرت کا وہ سلسلہ ہے جس کے دوررس اثرات کا ہم نے ابھی اندازہ بھی نہیں لگایا۔ اکبر الٰہ آبادی نے انیسویں صدی کے اختتام پر دلی، کلکتہ، لکھنو وغیرہ جیسے شہروں کے اس اثر کو دیکھا تھا، اور اس پر باقاعدہ شاعری کہی۔ وہ ایک ذہین اور دوراندیش شخص تھے، ان کا خیال تھا کہ نیا شہر، نیا تعلیم یافتہ نوجوان، نیا کاروباری مزاج، نیا گفتگو کا انداز ، یہ سب آدمی کے باطن کو کس طرح بدل رہا ہے، اس پر غور کرنا چاہیے ۔

    اکبر کی اس سوچ کو بیسویں صدی میں سعادت حسن منٹو نے اپنے بمبئی کے افسانوں میں آگے بڑھایا۔ منٹو نے بمبئی کی فلم انڈسٹری میں چودہ سال گزارے، اور وہاں سے ٹوبہ ٹیک سنگھ، بابو گوپی ناتھ، باؤ سکینڈر بخش، مہناز اور دس بائیس کے کرداروں کو نکال لائے۔ منٹو نے دکھایا کہ شہر ایک بھٹی ہے، جس میں آدمی کا اصل روپ پگھل جاتا ہے، اور پھر کوئی نیا روپ ابھرتا ہے۔ نیا روپ بہتر بھی ہو سکتا ہے، مگر اکثر بدتر ہوتا ہے۔ منٹو خود اس بھٹی سے گزرے، بمبئی نے انہیں ادب کی بلندیوں تک پہنچا دیا ، مگر شراب اور تنہائی کے گہرے کنویں میں بھی پھینکا۔

  بانو قدسیہ آپا جن کی تخلیقی قوت اور ندرت فکر کسی طور اپنے نامور خاوند اشفاق احمد سے کم نہیں تھی، ان کا سب سے اہم کام ناول راجہ گدھ ہے ،جس میں لاہور خود ایک کردار ہے۔ بانو آپا نے اس ناول میں دکھایا کہ لاہور میں آنے والا نوجوان قیوم پہلے سادہ ہوتا ہے، پھر آہستہ آہستہ شہر اسے اپنا بناتا ہے، اپنی چالاکیاں سکھاتا ہے، اپنی بے رحمی منتقل کرتا ہے۔ راجہ گدھ کا قیوم لاہور کے کس بازار، کس کیفے، کس ہاسٹل کا قیدی نہیں؟ بانو آپا کا کہنا تھا کہ شہر کے رشتے سب وقتی ہوتے ہیں، گاؤں کے رشتے دائمی۔ اس کا اطلاق پاکستان کے ہر بڑے شہر پر ہوتا ہے۔

   لاہور میں اپنے قیام کے ابتدائی برسوں کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ پنجاب یونیورسٹی ہمارا چکر لگتا رہتا۔ وہاں ایک دوست بن گیا۔ خوش رو، ہنس مکھ، سرگودھا کے کسی گاؤں سے آیا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لیا، ہاسٹل میں رہائش تھی۔ ایک سادہ، نیک نیت، صاف ستھری روح کا انسان۔ اس کے سامنے کوئی بزرگ آ جائے تو وہ کھڑا ہو جاتا، چائے بنا کر پیش کرتا، شائستہ وضع دارانہ انداز ۔

  یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد پہلے اس کی جاب ایک اخبار میں ہوئی اور پھر نجی چینلز شروع ہوئے تو اس کی جاب ایک ٹی وی چینل میں لگ گئی ۔ ایک سال میں ہی اس کا چہرہ بدلنے لگا۔ آنکھوں میں ایک نئی چالاکی آئی، ہاتھ میں مہنگا فون، اس کی بات چیت، پوری ڈکشن ہی بدل گئی، انگریزی کا تڑکا لازمی ہوتا۔ بات بات پر طنز۔ زندگی کے سفر میں جو دوست قدرے پیچھے رہ گئے، ان کے بارے میں عجیب انداز میں تبصرہ کرتا۔ گاؤں کا ذکر آئے تو چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سج جاتی جیسے کبھی پنڈ سے واسطہ ہی نہ رہا ہو۔ پانچ سات برسوں میں شہر نے اسے اپنا بنا لیا تھا۔ تبدیل ہونے میں کوئی برائی نہیں مگر اس میں سے وہ سادگی اور خلوص غائب ہوگیا تھا جو اس کے گاؤں کی پہچان تھی۔ مجھے اس وقت بہت دکھ ہوا تھا۔ لگا جیسے ایک خوبصورت کتاب کا سرورق پھٹ گیا ہو، اندر کے صفحات بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔

    ہمارے ہاں شہری زندگی اور شہری کلچر کا ایک سائیڈ ایفکٹ تنہائی بھی ہے۔ پنجاب کے گاؤں میں آج بھی شام کو لوگ چوپال میں اکٹھے ہوتے ہیں، چائے ، قہوے پر گپ شپ ہوتی ہے، حقہ گردش کرتا ہے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ سنے جاتے ہیں۔ لاہور یا کراچی میں ساتھ والے فلیٹ میں رہنے والا کرایہ دار آپ کو نہیں جانتا، آپ اسے نہیں جانتے۔ سوسائٹی کے واٹس ایپ گروپ میں روز پانی کی ٹینک، گاڑی کی پارکنگ، اور سیکیورٹی گارڈ کی شکایت پر بحث ہوتی ہے، مگر کوئی بھی کسی کا حال احوال پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ایک ہمسائے کا انتقال ہو جائے تو مہینے بعد پتہ چلے ، وہ بھی جب سوسائٹی کے گارڈ نے بتا دیا۔

   لاہور میں اپنے قیام کے تیس اکتیس برسوں میں کئی گھر بدلے اور ہر بار یہ ناخوشگوار تجربہ ہوا کہ جس گلی یا سٹریٹ میں ہم رہتے تھے، اسی میں کسی ہمسایے کی شادی ہوئی اور ہمیں بلایا تک نہیں، حالانکہ ان سے اچھی بھلی سلام دعا تھی۔ میرے ساتھ تو نہیں ہوا، مگر بعض کولیگز بتاتے ہیں کہ جہاں وہ کرایہ دار تھے، وہاں قریبی ہمسایے صاف کہہ دیتے کہ ہم کرایہ داروں کے ساتھ نہیں رکھتے ، اس لیے براہ کرم ہمارے گھر کوئی چیز نہ بھیجا کریں۔ میں سن کر دنگ رہ گیا۔ حد ہی ہوتی ہے۔ کیا کرایہ دار انسان نہیں؟

   بڑے شہروں میں تنہائی کلچر پر مغرب میں خاصا کام ہوا، کتابیں بھی لکھی گئیں۔ امریکا اور یورپ کے اپنے مسائل ہیں، مشرقی سماج ایک دوسرے سے زیادہ جڑا ہوا تھا۔ ہمارے ہاں بھی اب یہ مسائل آنے بلکہ بڑھنے لگے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ محلے کی مساجد میں لوگ نماز کے بعد دس منٹ بیٹھ کر گپ شپ کرتے۔ آج وہاں بھی لوگ نماز پڑھ کر فوراً تیزی سے نکل بھاگتے ہیں کہ شاید کوئی آواز دے کر روک نہ لے، فوراً اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

  لاہور میرا پسندیدہ ترین شہر ہے، یہاں میری زندگی کا نصف سے زیادہ عرصہ گزرا ہے۔ اسی شہر نے مجھے شناخت دی، عزت اور بہت زیادہ محبت دی۔ لاہور پر شائع ہونے والی تحریریں  میں دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ لاہور کے کلچر پر بہت کچھ شائع ہوچکا ہے، جن میں لاہور کی پرانی ادائیں ملتی ہیں۔ آج اسی لاہور میں کارپوریٹ رنگ بھی نمایاں ہوگیا ہے۔ جس میں ہر کوئی اپنے کیریر کی فکر میں دوڑ رہا ہے، اور رشتے دس منٹ کی واٹس ایپ کال میں نمٹ جاتے ہیں۔

   ہمارے ساتھ خود ایک عجیب وغریب واقعہ بیتا ہے، کوئی اور بتاتا تو شاید یقین نہ آتا۔ پچھلے مہینے میری ساس صاحبہ انتقال کر گئیں، وہ کئی برسوں سے ہمارے ساتھ رہ رہی تھیں۔ آج کل جس سوسائٹی میں رہ رہا ہوں، یہاں کرائے پر مکان لیے سات سال گزر چکے ہیں۔ میرے ملحقہ دیوار والے ہمسائے بھلےآدمی ہیں، ان سے آتے جاتے ملاقات ہوجاتی ہے۔ میری خوشدامن کے انتقال پر ان کی اہلیہ محترمہ نے فون کر کے میری بیگم سے تعزیت کی اور کہا کہ آنے کا وقت نہیں مل پاتا تو سوچا فون پر ہی تعزیت کر لوں۔

    یہ ہمارے ساتھ والے گھر کا معاملہ ہے۔ یہ ہے بڑے شہر کی بے رحمی کہ جہاں دیواریں تو سانجھی ہوتی ہیں، مگر دکھ بانٹنے کے لیے چند قدم چلنے کا وقت نہیں ملتا ۔مجھے اہلیہ نے بتایا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ یہ آج کے لاہور کی ایک سفاک جھلک ہے۔

    یہ کالم لکھتے ہوئے ایک بات ذہن میں آئی، کیا یہ سب صرف شہر کا قصور ہے یا اس میں ہمارا اپنا حصہ بھی ہے؟ یہ سوال مجھے کئی سال سے تنگ کر رہا ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ شہر تو محض ایک پلیٹ فارم ہے۔ اصل تبدیلی آدمی کے اپنے اندر ہوتی ہے۔ کوئی شخص گاؤں سے شہر آ کر بھی اپنی سادگی کو سنبھال سکتا ہے، اپنے اصول قائم رکھ سکتا ہے، اپنے بزرگوں کے ساتھ جڑا رہ سکتا ہے۔ یہ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ بزرگوں کا ایک طریقہ تھا۔ روز شام کو پانچ منٹ خود سے ملاقات کرو اور پوچھو، آج میں نے کسی سے کیا کہا؟ کیا یہ وہی تھا جو میں اصل میں چاہتا تھا، یا اس میں کوئی چالاکی، ہوشیاری شامل تھی۔ یہ سوال خوفناک ہے، مگر شفا بخش۔

بہرحال، آج جب کبھی احمدپور شرقیہ جاؤں یا میلسی کے قریب اپنے کزنوں کے گاؤں مانجھا کوٹلہ جانا ہو تو دل کی ایک کیفیت ہوتی ہے جسے بیان کرنا مشکل ہے۔ پرانے دوست ملتے ہیں، چائے کے کپ کے ساتھ پرانے قصے، دلچسپ یادیں۔ان کے درمیان بیٹھ کر ایک عجیب سکون ملتا ہے، ایسا سکون جو لاہور کے بہترین ریستوران میں بھی نہیں ملتا۔ تب اندازہ ہوتا ہے کہ شہر نے مجھ سے کیا چھینا اور کیا دیا؟ سوچتا ہوں، کاش ہم میں سے ہر کوئی سال میں چند دن تو اپنی جڑوں کے ساتھ گزارے۔ شہر تو ساتھ آئے گا، مگر کم از کم آدمی اپنا اصلی آپ یاد رکھ سکے گا۔ اللہ کرے ہم شہر میں رہیں، مگر شہر ہم میں نہ رہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp