کون نہیں چاہتا ہے کہ اس دیس کی رونقیں بحال ہوں؟ کون خوشیاں منانے سے منکر ہے؟ کس کا دل نہیں چاہتا کہ یہاں کھیل، میلے، تہوار، تقریبات اور جشن ہوں؟ کون رنگوں کے بکھرنے کی خواہش نہیں کرتا؟ کون مسرتوں کے استقبال سے منع کرنا چاہتا ہے؟
خوشیاں سب ہی مناتے ہیں مگر اپنے پنجاب کا ڈھنگ ہی نرالا ہے۔ یہاں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ہوتا ہے، پکوان چڑھتے ہیں، رنگا رنگ لباس بنتے ہیں، کھیتوں میں بالیاں گدا ڈالتی ہیں۔ سرسوں جوبن پر آتی ہے۔ بہار کا استقبال ہوتا ہے۔ ان مسرتوں سے کس کو انکار ہے، کس کو اختلاف ہے، مگر بسنت؟
بسنت آمدِ بہار کا جشن۔ سرسوں کے پیلے ہونے کا رقص۔ یہ تہوار سنسکرت میں ’وسنت‘ کہلایا جاتا رہا۔ یہ برصغیر کا تہوار رہا۔ یہ بدھ مت، قدیم ہندو مذہب اور مسلم دور کی نشانی۔ اس کا تعلق زراعت سے بھی، اس کا تعلق سماج سے بھی، موسم کی تبدیلی سے بھی اس کا ناتا، موسیقی سے بھی اس کا ربط اور صوفی روایات میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ موسم کا یہی رنگ تھا جب امیر خسرو نے اپنے مرشد کو منانے کے لیے بسنتی لباس پہنا اور بسنت کے گیت گائے۔ یہ ایک طبقۂ فکر، ایک سوچ کا تہوار نہیں، یہ مندروں، گردواروں، درگاہوں، بارگاہوں، مزاروں کا تہوار ہے۔
لاہور میں بسنت کی روایت مغلیہ دور سے جڑی ہوئی ہے۔ مغلوں کے دور میں اس تہوار کا کمال اہتمام ہوتا۔ زرد لباس پہنے جاتے، موسیقی کا انتظام ہوتا، پکوان چڑھتے۔ کسی نے اس کو ثقافت کہا، کسی نے تہذیب کا نام دیا، کسی نے زندگی کی علامت سمجھا، کسی نے بہار کی آمد کا اذن بتایا اور کسی نے سردیوں کے اختتام کا جشن کہا۔ یہ تہوار پرانا ہے۔ اس کی جڑیں اس سرزمین میں صدیوں سے ہیں، لیکن اب بسنت اور لاہور کے ملاپ کے معنی بہت خونچکاں ہیں۔
لاہور میں بسنت منانے پر مدت سے پابندی ہے۔ جنرل مشرف نے اس کی بحالی کی کوشش کی، مگر ایک دو سال میں اتنے حادثے ہوئے کہ انہوں نے اس سے مفر ہی غنیمت جانا۔ شہباز شریف ہمیشہ سے اس پر پابندی کے حق میں رہے۔ اب مریم نواز نے فروری میں اس تہوار کو منانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ پورے صوبے میں حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دھاتی ڈور پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ پتنگ اڑانے کے لیے جگہ مخصوص کی جا رہی ہے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ بسنت صرف 3 دن منائی جائے گی۔ لوگوں کو حادثوں سے بچانے کے لیے قانون بنائے جا رہے ہیں۔ خلاف ورزی پر سزاؤں سے ڈرایا جا رہا ہے۔ پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دھاتی ڈور بنانے والوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ٹی وی پر لوگوں کو انتباہ کرنے کے لیے اشتہار چلائے جا رہے ہیں لیکن کیا یہ اقدامات بسنت کو محفوظ بنا دیں گے؟
مریم نواز کی یقیناً یہ خواہش ہو گی کہ ان کے دورِ اقتدار میں جہاں پنجاب کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں وہاں پنجاب کے تہواروں کو بھی زندہ کیا جائے۔ وہ لاہور کے عوام کی چھینی مسرتیں لوٹانا چاہتی ہیں، مگر لاہور اور بسنت ایک بہت سنگین معاملہ ہے۔
لاہوری جشن منانا جانتے ہیں، خوشیاں منانا ان کی سرشت میں ہے۔ وہ جگتوں پر ہنسنا جانتے ہیں۔ وہ کھیل تماشے سے لطف اندوز ہونا جانتے ہیں۔ وہ فنکاروں کے فن سے حظ اٹھانا جانتے ہیں۔ وہ کھانوں کے شوقین، وہ تہواروں کے دل دادہ، رونق میلے والے لوگ ہیں۔ لاہوری ہنسنے ہنسانے والے لوگ ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لاہوریوں کو سب کام آتے ہیں مگر بسنت منانا نہیں آتا۔ یہ تہوار ان کے لیے کھیل نہیں، خونی کھیل بن چکا ہے۔ یہ اب تہوار نہیں رہا، یہ نشہ بن چکا ہے، عذاب بن چکا ہے، نسلوں کو برباد کر چکا ہے۔ کتنے جوانوں کو مفلوج کر چکا ہے۔
اس میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب بسنت کی شام درجنوں سانحے لاہوریوں پر گزر جاتے ہیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
سرکاری طور پر بسنت کا آغاز نغموں ، پکوانوں اور ’بو کاٹا‘ کے شور سے ہوتا ہے مگر انجام اسپتالوں اور قبرستانوں میں ہوتا ہے۔ بسنت کی شام چینلوں پر یہ خبر کم چلتی ہے کہ کس صاحبِ حیثیت نے کہاں بسنت منائی؟ کلچر کتنا زندہ ہوا؟ ثقافت کتنی جاگی؟ تمدن نے کون سی کروٹیں لیں؟ بلکہ یہ خبر زیادہ چلتی ہے کہ کتنے بچے چھتوں سے گر گئے؟ کتنے جوانوں کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں؟ کتنے پتنگ کے تعاقب میں گاڑیوں تلے کچلے گئے؟ کتنے ہمیشہ کے لیے اپاہج ہو گئے؟ کتنی گردنوں پر ایسی دھاتی ڈور پھر گئی کہ گردن ہی تن سے جدا ہو گئی۔
مریم نواز پنجاب کی خوشیاں لوٹانا چاہتی ہیں مگر بسنت کی خوشی میں جو صدمے پوشیدہ ہوتے ہیں انہیں شاید اس کا ادراک نہیں۔
محترم وزیرِ اعلیٰ صاحبہ! ہو سکتا ہے کہ آپ کا بسنت منانے کا رنگین لباس بھی کسی ڈیزائنر کے ہاں تیار ہو گیا ہو، ہو سکتا ہے وزیرِ اعلیٰ کی ٹک ٹاک بنانے والوں نے فریحہ پرویز کے گانے ’پتنگ باز سجنا‘ کا بھی انتخاب کر لیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ پرانے لاہور کی چھتوں پر ابھی سے بکنگ ہو گئی ہو، پکوان بنانے والوں کو لمبے آرڈر دے دیے گئے ہوں۔ مگر وزیرِ اعلیٰ کو یاد رکھنا ہو گا کہ ان خوشیوں کی قیمت لاہور کو درجنوں زندگیوں کی صورت میں دینا ہو گی۔
ایک منظر یادداشت میں ہے۔ ایک باپ نے چوتھی جماعت کی بچی کی گردن ہاتھ میں تھامی تھی۔ دھڑ سے گردن الگ ہو گئی تھی۔ بچی باپ کے ساتھ یونیفارم پہنے موٹر سائیکل پر آگے بیٹھی تھی۔ باپ بچی کو کوئی کہانی سنا رہا تھا۔ اس کو احساس بھی نہیں ہوا کہ ایک لمحے میں دھاتی ڈور بچی کی گردن کے پار ہو گئی۔ باپ کی کہانی جاری تھی مگر بیٹی کی کہانی ختم ہو گئی تھی۔ پتا اس وقت چلا جب یونیفارم خون سے بھر گیا۔ بچی کا بدن ڈھلک گیا اور گردن باپ کے ہاتھ میں رہ گئی۔ یہ منظر میں نے دیکھا۔ پھر بسنت کی کبھی خواہش نہیں جاگی۔ پھر کبھی ثقافت کا دورہ نہیں پڑا۔
میری وزیرِ اعلیٰ سے استدعا ہے کہ خوشیاں منانے کا کوئی اور طریقہ ایجاد کریں۔ مگر خدارا اس خونی تہوار کی بحالی سے پرہیز کریں۔ اگر آپ اور آپ کی کابینہ پھر بھی بسنت منانے پر مصر ہیں تو خدا کے لیے بسنت کے دنوں میں اسپتالوں کو الرٹ کر دیں، بلڈ بینکس میں خون کے عطیات دینے کا اعلان کروائیں، چھتوں سے گر کر مستقل معذور ہو جانے والوں کے لیے وہیل چیئرز کا اہتمام کروائیں، اور قبرستانوں میں ڈور سے مر جانے والے بچوں کی لاشیں دفنانے کا انتظام کروائیں۔
لاہوری سب کچھ کر سکتے ہیں مگر بسنت منانے کا سلیقہ ان کو نہیں آتا۔ اس بات کو تسلیم کر لیں۔ اس کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ خلقِ خدا کو خوشیوں کے نام پر دکھ نہ دیں۔ خدارا بسنت کے نام پر بچوں کو قتل کرنے کا لائسنس نہ دیں۔ یاد رکھیں، جب تک لوگوں کو بسنت منانے کا سلیقہ آئے گا اس وقت تک بہت سی زندگیوں کے چراغ آپ کے فیصلے کی وجہ سے گل ہو چکے ہوں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













