کوبالٹ سے سیزیم تک: بھارت میں نیوکلیئر نگرانی کی ناکامیوں کی کہانی

پیر 29 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں نیوکلیئر اور ریڈیواکٹو مواد سے متعلق پیش آنے والے متعدد واقعات اب محض انفرادی غفلت نہیں رہے، بلکہ ایک ایسے تسلسل کی صورت اختیار کر چکے ہیں جو ریاستی نگرانی، انوینٹری مینجمنٹ اور فضلے کے تصرف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں حساس ریڈیواکٹو مواد کا غیر مجاز طور پر اسکریپ مارکیٹ تک پہنچ جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حفاظتی فریم ورک اور عملی نفاذ کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان خطرناک جوہری مواد کی حفاظت میں بھارت سےبہتر، امریکی جائزہ رپورٹ

2010 میں دہلی کے علاقے مایاپوری میں کوبالٹ-60 کے ایک ریڈیواکٹو سورس کا اسکریپ میں فروخت ہونا ایک بڑا واقعہ تھا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد متاثر ہوئے اور ایک شخص کی ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی۔ اس واقعے نے نہ صرف ادارہ جاتی غفلت کو بے نقاب کیا بلکہ نیوکلیئر فضلے کے انتظام کے نظام کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسی طرح 2019 میں آندھرا پردیش میں سیزیم-137 کا ایک لاپتہ سورس ایک اسکریپ ڈیلر کے پاس سے برآمد ہوا، جو اس بات کی علامت تھا کہ حساس مواد کی ٹریکنگ اور انوینٹری مینجمنٹ مؤثر نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے واقعاتی ریکارڈ میں بھی بھارت سے متعلق متعدد رپورٹس درج ہیں، جو ان مسائل کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں گینگ سے تابکاری مواد کی برآمدگی پر پاکستان کا ردعمل کیا رہا؟

ماہرین کے مطابق مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان پر غیر مستقل عملدرآمد ہے، جس کے باعث ایسے واقعات اکثر اتفاقیہ دریافت ہوتے ہیں، نہ کہ بروقت نگرانی کے نتیجے میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل

تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے

گلگت بلتستان انتخابات: ووٹرز سیاسی جماعتوں سے کیا چاہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں