بلوچستان کی ہونہار بیٹی ایمان تاجک نے کم عمری میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی سطح پر اپنی پہچان بنا لی۔
یہ بھی پڑھیں: آمنہ شفیع، بلوچستان کے بچوں کا مستقبل سنوارنے والی باہمت خاتون
محض 3 سال کے مختصر عرصے میں ایمان تاجک نے ووشو کے میدان میں شاندار کارکردگی دکھا کر خود کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی نیشنل ووشو اسٹار کے طور پر منوا لیا ہے۔
مختلف قومی مقابلوں میں کامیابیاں اور متعدد گولڈ میڈلز ان کی محنت، لگن اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ایمان تاجک نے ووشو جیسے مشکل اور سخت کھیل میں اپنی انتھک محنت کے ذریعے حریف کھلاڑیوں کو بارہا شکست دی۔
کوچز اور کھیلوں سے وابستہ حلقوں کے مطابق ایمان نہ صرف تکنیکی طور پر مضبوط ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی ایک بااعتماد اور پختہ کھلاڑی بن کر سامنے آئی ہیں جو کسی بھی اعلیٰ سطح کے مقابلے کے لیے ایک اہم وصف سمجھا جاتا ہے۔
ایمان کا روزمرہ معمول انتہائی منظم اور نظم و ضبط سے بھرپور ہے۔ وہ روزانہ 3 گھنٹے تک سخت پریکٹس کرتی ہیں جس میں ہر پنچ، ہر کِک اور ہر موو میں ان کی پیشہ ورانہ سنجیدگی نمایاں ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں جنرل نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ کیوں نہیں دیے جاتے؟
ان کی ٹریننگ میں رفتار، طاقت اور تکنیک پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، جس نے انہیں قلیل مدت میں نمایاں مقام دلایا۔
ایمان تاجک کا کہنا ہے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، مسلسل محنت اور خود پر یقین ہی اصل طاقت ہے۔
ان کا عزم ہے کہ وہ مستقبل میں بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں اور اپنی کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کا نام روشن کریں۔
کھیلوں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایمان تاجک کو مناسب سرپرستی، سہولیات اور حکومتی تعاون فراہم کیا جائے تو وہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے لیے میڈلز جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
بلوچستان جیسے پسماندہ تصور کیے جانے والے صوبے سے ایسی باصلاحیت کھلاڑی کا ابھرنا نوجوان نسل کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی نے سرکاری آسامیوں میں خواتین کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 33 فیصد کرنے کی قرارداد منظور کرلی
ایمان تاجک کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو بلوچستان کی بیٹیاں بھی کسی سے کم نہیں اور کھیلوں کے میدان میں عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کر سکتی ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔













