ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا، ہم خدائی مدد اور فضل سے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تہران دشمن کے ساممنے نہیں جھکے، ہم اللہ کی مدد سے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔
مزید پڑھیں: ایران میں مظاہرے: امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی، علی لاریجانی
انہوں نے حکام کو ہدایات دیتے ہوئے کہاکہ احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی جائے، تاہم یہ بھی واضح کیاکہ احتجاج کی آڑ میں ہنگامہ آرائی قبول نہیں کی جائےگی۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو غیر سنجیدہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی املاک پر حملوں جیسے مجرمانہ اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنے داخلی معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتی رہے گی۔
انہوں نے واضح کیاکہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں اور ملکی خود مختاری کو لاحق کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکہ ملک میں زرِ مبادلہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے متاثر افراد کا احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے، تاہم انہوں نے بعض پرتشدد واقعات کی نشاندہی بھی کی۔ ان کے مطابق ان واقعات کے دوران پولیس اسٹیشنز اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: ایران کی طرف بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیں گے، ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کا سخت ردعمل
واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہاں مظاہرین کے خلاف مزید ہلاکتیں ہوئیں تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکا پُرامن مظاہرین کے تحفظ کے لیے ایران میں قدم رکھ سکتا ہے۔














