وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان کی صورتحال اور ایران و مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں تمام پارلیمانی لیڈران کو وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا تاکہ انہیں ایک جامع بریفنگ دی جا سکے اور اعتماد میں لیا جا سکے، لیکن پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
مزید پڑھیں: مشعال یوسفزئی کا پی ٹی آئی میں سیاسی سفر، صرف 2 سالوں میں صوبائی کابینہ سے سینیٹ کیسے پہنچیں؟
پی ٹی آئی کی یہ ہٹ دھرمی ظاہر کرتی ہے کہ وہ ذاتی اور سیاسی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ دورانِ عمران خان وزارتِ عظمیٰ بھی جب کشمیر یا فلسطین پر خصوصی کمیٹیاں بلائی گئیں تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف شریک تھے، مگر خود وزیراعظم ہونے کے باوجود عمران خان اہم قومی اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سے ملاقات
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور افغانستان کے معاملات پر پی ٹی آئی کی شمولیت محض سیاسی بیانات تک محدود ہے اور وہ کسی قومی فورم یا بامعنی ڈائیلاگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔














