گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بیان میں کہاکہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے لاہور کے دورے کے دوران غلط زبان کے استعمال پر معذرت بھی کی۔
گزشتہ دنوں جب تحریکِ تحفظ آئینِ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا گیا تو اس پر وزیراعظم نے مثبت جواب دیا اور مذاکرات کی حامی بھری لیکن اُس کے فوراً بعد علیمہ خان نے بیان دیا کہ جو کوئی بھی مذاکرات کی بات کرتا ہے وہ عمران خان کا دشمن ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے باہر ڈراما لگاتی ہے، باز نہ آنے پر حل نکالنا ہوگا، رانا ثنااللہ
مذاکرات نہ کرنا کیا عمران خان کی حکمت عملی کا حصہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر مذاکرات کی بات کیوں کرتے ہیں، اور کیا علیمہ خان عمران خان کی ترجمانی کرتی ہیں؟
ان سوالات کو سمجھنے کے لیے وی نیوز نے پاکستان تحریک اِنصاف کی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافیوں سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے۔
’سہیل آفریدی کی پارٹی کے اندر پوزیشن بہت کمزور ہے‘
مذاکرات سے متعلق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان کے حوالے سے وی نیوز نے پشاور کے سینیئر صحافی لحاظ علی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اِس بیان کے بعد میری وزیراعلیٰ سے بات ہوئی اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
’ان کے بیان سے جس چیز کو حذف کیا گیا وہ یہ تھی کہ وزیرِاعلیٰ نے کہاکہ وہ اسٹیبلشمنٹ یا حکومت دونوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ’برابری کی سطح پر اور عزّت و تکریم کے ساتھ‘۔ دوسرا اُنہوں نے جو معذرت کی وہ خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر مینا خان آفریدی کے وزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں بولے گئے الفاظ کے بارے میں تھی۔ ‘
صحافی لحاظ علی نے پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی حکمتِ عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اِس بات کا پتا ہے کہ ان کی پوزیشن بہت کمزور ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے پیشرو علی امین گنڈاپور کو اس وجہ سے وزاتِ اعلیٰ سے ہٹایا گیا کیونکہ ان کے اختلافات عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اور خاص طور پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ بڑھ گئے تھے۔
’اِس صورتحال میں سہیل آفریدی کوئی واضح لائحہ عمل دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ دوسرا پاکستان تحریک اِنصاف اِس وقت بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور پارٹی کی مرکزی تنظیم بے دست و پا ہے، اس لیے مستقبل قریب میں سنجیدہ نوعیت کے مذاکرات ہوتے نظر نہیں آتے۔‘
’مذاکرات کے حوالے سے سہیل آفریدی کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا‘
پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیئر صحافی محمود جان بابر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ کے بیان کو مِس قوٹ کیا گیا ہے۔
محمود جان بابر نے بتایا کہ سہیل آفریدی سے پوچھا گیا تھا کہ اگر فوجی سربراہ آپ کے سامنے آئیں تو کیا اُن سے ملیں گے؟ جس پر اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں ملوں گا۔ وزیراعلیٰ کے اِس بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
صحافی نے کہاکہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے فی الوقت تیار نظر نہیں آتی لیکن جلد اِنہیں اِس غلطی کا احساس ہو گا۔
اس وقت مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ علیمہ خان ہیں: حماد حسن
معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار حماد حسن نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر دو بڑے نظریے ہیں، ایک طرف بیرسٹر گوہر اور تحریکِ تحفظ آئینِ پاکستان کے چیئرمین محمود خان اچکزئی جیسے لوگ ہیں جو مذاکرات کی بات کرتے ہیں، اور دوسری طرف شاہد خٹک اور مینا خان آفریدی جیسے لوگ ہیں جنہیں کچھ سمجھ نہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گوکہ ایک نوجوان قیادت ہے لیکن وہ بیرسٹر گوہر کے گروپ کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں اور مذاکرات کی طرف مائل بھی ہیں لیکن بات چیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اِس وقت علیمہ خان ہیں جو بات چیت کو آگے بڑھنے نہیں دے رہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات سے قبل اپنے کیے پر دنیا کے سامنے معافی مانگے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
حماد حسن نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق علیمہ خان نے سہیل آفریدی سے کہا ہے کہ جب وہ کہیں گی تب سہیل آفریدی استعفیٰ دے دیں گے۔ علیمہ خان بنیادی طور پر یوٹیوبرز کی نمائندہ اور اُن کی بزنس پارٹنر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے جو مذاکرات کی دعوت دی ہے اُس کے پیچھے طاقتور حلقوں کی مرضی بھی شامل ہے اور حکومت سے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، لیکن علیمہ خان ان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔














