مہنگائی کا دباؤ: پاکستانیوں کو بنیادی ضروریات نے جکڑ لیا، ترسیلات زر پر انحصار بڑھ گیا

اتوار 4 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ نے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ ایک تازہ حکومتی سروے کے مطابق پاکستانی گھرانے اپنی آمدن کا تقریباً دو تہائی حصہ صرف خوراک اور بجلی و گیس پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ تعلیم، صحت اور تفریح کے لیے بہت کم رقم بچ پاتی ہے۔ اس صورتحال میں غیر ملکی ترسیلات زر اور مالی امداد پر انحصار نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

خوراک اور بجلی سب سے بڑا خرچ

حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق پاکستانی گھرانے اپنی مجموعی ماہانہ آمدن کا 63 فیصد صرف 2بنیادی ضروریات پر خرچ کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق 37 فیصد خرچ خوراک پر اور  26 فیصد خرچ رہائش، بجلی اور گیس پر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے مہنگائی کے باعث 89 فیصد پاکستانیوں نے گھر سے باہر کھانا کم کردیا، گیلپ سروے

یہ شرح 2019 کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جو مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کی عکاسی کرتی ہے۔

تعلیم اور صحت پس منظر میں چلی گئیں

۔سروے میں انکشاف ہوا کہ تعلیم پر خرچ صرف 2.5 فیصد رہ گیا ہے صحت پر 3.4 فیصد

تفریح پر محض 1.1 فیصد، تعلیم پر خرچ گزشتہ 6 سال میں تقریباً آدھا ہو چکا ہے، جبکہ ریستورانوں میں کھانے پر خرچ تعلیم سے دگنا ہے، خاص طور پر امیر طبقے میں۔

آمدن بڑھی، مگر اخراجات اس سے زیادہ

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق اوسط ماہانہ آمدن 41 ہزار روپے سے بڑھ کر 82 ہزار روپے ہو گئی۔ لیکن اخراجات میں 19 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جو آمدن کے اضافے سے زیادہ ہے۔

شہری علاقوں میں آمدن دیہی علاقوں سے کہیں زیادہ رہی، جبکہ امیر اور غریب کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا۔

ترسیلات زر پر بڑھتا انحصار

سروے کے مطابق غیر ملکی ترسیلات زر کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 8 فیصد ہو گیا۔

تحائف اور مالی امداد 4.6 فیصد تک پہنچ گئی۔ دیہی علاقوں میں ترسیلات زر پر انحصار دوگنا ہو چکا ہے، جو روزگار کے محدود مواقع اور معاشی مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے۔

مہنگائی اور آئی ایم ایف شرائط کا اثر

ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافہ، 2 ہندسوں پر مشتمل مہنگائی اور  آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت ٹیکس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نے متوسط اور نچلے طبقے کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 48 فیصد پاکستانیوں کی لنڈا بازاروں سے خریداری، ’کیا حکومت اس پر بھی ٹیکس لگانے جا رہی ہے‘

سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں عام شہری کی آمدن اگرچہ کاغذ پر بڑھی ہے، مگر مہنگائی نے اس اضافے کو بے اثر کر دیا ہے۔ بنیادی ضروریات کے بعد تعلیم، صحت اور ذہنی نشوونما کے لیے بہت کم وسائل بچتے ہیں، جو ملک کے مستقبل کے لیے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ کی مسجد میں نمازیوں کی ورزش کے سیشنز، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

پرامن مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کریں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سیکیورٹی فورسز کو ہدایت

امریکا کی بحر اطلس میں کارروائی، وینزویلا سے منسلک 2 روسی تیل بردار جہازوں پر قبضہ

چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکیورٹی یونٹ قائم کیا جارہا ہے، محسن نقوی

کترینہ کیف اور وکی کوشل نے اپنے بیٹے کا نام مداحوں کے ساتھ شیئر کردیا

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟