جہاں ایک جانب مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، وہیں دوسری جانب پاکستانی شہریوں نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لنڈا بازاروں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے، کیونکہ محدود آمدنی کے ساتھ نئے کپڑوں کا خرچ برداشت کرنا اب عام آدمی کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لنڈا بازار آج صرف پرانے کپڑوں کی خرید و فروخت کا مرکز نہیں، بلکہ ایک ایسی جگہ بن چکا ہے جہاں زندگی کی بقا اور فیشن کی جھلک دونوں میسر ہیں۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ایک سروے کے مطابق، پاکستان کے 48 فیصد شہری لنڈا بازاروں سے خریداری کرتے ہیں۔ یہ محض ایک عددی رپورٹ نہیں، بلکہ اس امر کا کھلا اعتراف ہے کہ برانڈڈ ملبوسات اب متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ لنڈے کی جیکٹ سے 100 پاؤنڈز ملے‘، اداکار عاصم محمود
گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے ایک تازہ سروے میں عوام سے سوال کیا گیا کہ ’کیا آپ نے گزشتہ برس لنڈا بازار سے کپڑے، سویٹر یا کوٹ خریدے؟‘ اس کے جواب میں 48 فیصد افراد نے ’ہاں‘ کہا، 51 فیصد نے ’نہیں‘، جبکہ 1 فیصد نے کوئی رائے دینے سے گریز کیا۔
View this post on Instagram
سوشل میڈیا صارفین اس پر مختلف ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کافی زیادہ تعداد میں لوگ لنڈا بازار سے خریداری کرتے ہیں۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ جتنا ہماری عوام کو ٹیکس کے نام پر لوٹا جا رہا ہے اگلے سال اس کا تناسب 80 فیصد ہو جائے گا۔ احمد فیاض لکھتے ہیں کہ یا حکومت اس پر بھی ٹیکس لگانے جا رہی ہے۔ جبکہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو انہوں نے لنڈا بازاروں کا رخ نہیں کیا لیکن معاشی صورتحال کے پیش نظر وہ جلد اس کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ سروے رواں سال 7 سے 22 مارچ 2025ء کے درمیان کمپیوٹر اسسٹڈ ٹیلی فون انٹرویو (CATI) کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جس میں ملک کے چاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں سے مجموعی طور پر 779 مرد و خواتین نے شرکت کی۔














