بنگلہ دیش میں نئے آرڈیننس سے ہزاروں ٹریول ایجنٹس بےروزگار ہونے کا خطرہ، تشویش کا اظہار

اتوار 4 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی ٹریول انڈسٹری کے رہنماؤں نے حکومت کے نئے آرڈیننس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نفاذ سے ملک بھر میں تقریباً 5 ہزار ٹریول ایجنسیاں بند ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ کاروبار دشمن ہے اور ٹریول سیکٹر کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ٹریول ایجنسی رجسٹریشن اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2026، جو یکم جنوری کو جاری کیا گیا، میں لائسنسنگ اور آپریشنز کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ صنعت کے نمائندوں کے مطابق یہ قواعد چھوٹی اور درمیانی درجے کی ایجنسیوں کو شدید متاثر کریں گے، جو بنگلہ دیش کی ٹریول مارکیٹ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار اور توحید حسین کا رابطہ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

ایسوسی ایشن آف ٹریول ایجنٹس آف بنگلہ دیش کے سابق صدر منظور مرشد محبوب نے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کی کئی نئی شقیں معمول کی کاروباری سرگرمیوں کو تقریباً ناممکن بنا دیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک شق کے تحت ٹریول ایجنسیوں کو آپس میں ہوائی ٹکٹ خریدنے اور فروخت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تقریباً 5,800 رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیاں ہیں، جن میں سے صرف 800 کے قریب حکومت سے منظور شدہ ہیں۔ باقی ایجنسیاں بڑی ایجنسیوں کے ذریعے ٹکٹ جاری کرواتی ہیں۔ اس عمل پر پابندی لگنے سے یہ ایجنسیاں اپنے سیلز اہداف پورے نہیں کر پائیں گی اور بالآخر بند ہو جائیں گی۔

ایک اور شق کے تحت غیر رجسٹرڈ ایجنسیوں کو 10 لاکھ ٹکا کی بینک گارنٹی جمع کرانا ہوگی۔ ٹریول انڈسٹری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر چھوٹی ایجنسیاں یہ بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروع

تقریب سے خطاب کرنے والوں نے اس پابندی پر بھی تنقید کی جس کے تحت ریکروٹنگ ایجنسیوں اور ٹریول ایجنسیوں کو ایک ہی پتے پر کام کرنے سے روکا گیا ہے، حالانکہ یہ طریقہ بیرونِ ملک جانے والے مزدوروں کے اخراجات کم کرنے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند افراد کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔

ٹریول انڈسٹری کے رہنماؤں نے اس شق پر بھی اعتراض اٹھایا جس میں حکام کو بغیر پیشگی سماعت کے ایجنسیوں کے لائسنس معطل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے اختیارات کے غلط استعمال اور بھاری مالی نقصانات کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، انہوں نے سخت سزاؤں کی بھی مخالفت کی، جن کے تحت قید کی مدت بڑھانے اور جرمانے 10 لاکھ ٹکا تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ٹریول سیکٹر کے نمائندوں نے بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آرڈیننس واپس لیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون نافذ رہا تو ہزاروں ملازمتیں اور ان سے وابستہ خاندانوں کا روزگار شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبی تنازع: بنگلہ دیش کا مسئلے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرنے کا اعلان

اسلام قبول کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا حکم، آئینی عدالت میں اہم ریمارکس

بہاولپور پلازہ تنازع کیس: وکیل کی فیس واپسی اور ’ڈن بیسز ریلیف‘ پر اہم عدالتی فیصلہ

پشاور: امریکی قونصل خانہ کی بندش، اب سفارتی امور کہاں انجام دیے جائیں گے؟

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی