بنگلہ دیش نے تیستا آبی تنازع کے حل کے لیے بھارت کا مزید انتظار نہ کرنے اور مسئلے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمن نے منگل کے روز دارالحکومت ڈھاکا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے گا اور طویل عرصے سے زیر التوا آبی معاہدے کے انتظار میں نہیں رہ سکتا۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا شاپلا سانحے کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ تیستا دریا سے متعلق مسئلہ شمالی بنگلہ دیش میں بسنے والے لاکھوں افراد کے لیے ’بقا کا مسئلہ‘ بن چکا ہے، جبکہ پانی کی کمی اور ماحولیاتی مسائل شدید معاشی و انسانی بحران پیدا کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت پائیدار آبی انتظام اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اپنے آئندہ دورۂ چین کے دوران وہ تیستا دریا کے انتظامی منصوبے پر چینی حکام سے بات چیت کریں گے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی غور ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق چین پہلے ہی بنگلہ دیش میں تیستا دریا کے انتظام اور پانی کے تحفظ کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ، دیہی آبادی شدید متاثر
وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ بنگلہ دیش اب بھی بھارت سے معاہدے پر نظرثانی کی توقع رکھتا ہے، تاہم ڈھاکہ کسی بھی صورت صرف انتظار کی پالیسی پر قائم نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے بھارت کی ریاست آسام کے وزیراعلیٰ کے بیانات پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش سفارتی سطح پر اپنا مؤقف بھرپور طریقے سے پیش کرے گا۔














