جنوبی کوریا کے ممتاز فلمی اداکار آہن سنگ-کی جنہیں ان کی طویل اور شاندار فنی خدمات کے اعتراف میں ’قوم کا اداکار‘ کہا جاتا تھا 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ان کی وفات کا اعلان ایجنسی آرٹسٹ کمپنی اور سیئول کے سونچُن ہیانگ یونیورسٹی اسپتال کی جانب سے کیا گیا۔ اداکار طویل عرصے سے خون کے کینسر میں مبتلا تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے سب سے موٹے شخص کا 41 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا
1952 میں جنوبی کوریا کے شہر ڈےگو میں ایک فلم ساز کے گھر پیدا ہونے والے آہن سنگ-کی نے محض پانچ برس کی عمر میں 1957 کی فلم ’دی ٹوائلائٹ ٹرین‘ کے ذریعے بطور چائلڈ ایکٹر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے بطور کم عمر اداکار تقریباً 70 فلموں میں کام کیا جس کے بعد فلمی دنیا کو خیرباد کہہ کر ایک عام زندگی اختیار کرلی۔
1970 میں انہوں نے سیئول کی ہانکُک یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز میں ویتنامی زبان میں داخلہ لیا اور نمایاں کامیابی کے ساتھ گریجویشن مکمل کی۔ تاہم ویتنام جنگ کے بعد بدلتی عالمی صورتِ حال کے باعث انہیں عملی میدان میں مشکلات کا سامنا رہا اور وہ چند برس بے روزگار رہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی سنیما کی پہچان 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
1977 میں آہن سنگ-کی نے دوبارہ فلمی دنیا میں واپسی کا فیصلہ کیا اور 1980 میں فلم ’گُڈ، ونڈی ڈیز‘ میں مرکزی کردار نے انہیں غیر معمولی شہرت دلائی۔ اس فلم پر انہیں گرینڈ بیل ایوارڈز میں بہترین نئے اداکار کا اعزاز ملا، جو جنوبی کوریا میں سب سے معتبر فلمی ایوارڈز میں شمار ہوتے ہیں۔
بعد ازاں آہن سنگ-کی نے 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں متعدد کامیاب اور تنقیدی طور پر سراہي گئی فلموں میں اداکاری کی اور ملک کے مقبول ترین اداکاروں میں شامل ہو گئے۔ ان کے یادگار کرداروں میں ’مندارا‘، ’وہیل ہنٹنگ‘، ’وائٹ بیج‘، ’ٹو کاپس‘، ’نو وئیر ٹو ہائیڈ‘، ’سِلمیدو‘ اور ’ریڈیو اسٹار‘ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دھرمندر کی بیٹی ایشا دیول والد کے انتقال کے ایک ماہ بعد پہلی پر منظرعام پر آگئیں
اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے جنوبی کوریا کے بڑے فلمی ایوارڈز میں 20 سے زائد اعزازات حاصل کیے جن میں گرینڈ بیل ایوارڈز میں پانچ مرتبہ بہترین اداکار کا ایوارڈ شامل ہے۔ یہ ریکارڈ اب تک کوئی اور اداکار قائم نہیں کر سکا۔
آہن سنگ-کی کو ایک عاجز، قابلِ اعتماد اور خاندانی اقدار کا حامل فنکار سمجھا جاتا تھا۔ وہ اسکینڈلز سے دور رہے اور ایک سادہ و باوقار ذاتی زندگی گزاری۔ عوامی سرویز میں انہیں بارہا جنوبی کوریا کا سب سے محبوب اداکار قرار دیا گیا جس کی بنا پر وہ ’قوم کا اداکار‘ کہلائے۔
ان کی وفات سے جنوبی کوریا کی فلمی صنعت ایک عہد ساز فنکار سے محروم ہو گئی ہے جبکہ مداح اور ساتھی فنکار ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کر رہے ہیں۔














