قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں، صدر مملکت آصف زرداری اور مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے سمیت مختلف تجاویز دی گئی ہیں، ان تجاویز پر حکومتی رہنماؤں کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کا مستقل اختیار دے رکھا ہے، اگر اپوزیشن بات کرنے کے لیے آگے آئے گی تو میں وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری، نواز شریف اور وزیراعظم کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی تجویز
’اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی ابھی بھی موجود ہے، لیکن اپوزیشن کبھی مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں رہی، میڈیا پر ان کے بیانات سنے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اس کے بعد میں نے ان کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔‘
First Conference arranged by NDC has received lead coverage on all news media, the importance of Dialogue is now well understood the credit for this huge success goes to members and organisers of NDC.. pic.twitter.com/VDRcrDyJHP
— National Dialogue Committee (@NDCOfficialACC) January 8, 2026
ایاز صادق نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے مذاکرات کے لیے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اراکین ہی آئیں گے تو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے جو ارکان ہیں اگر تو وہ رکن قومی اسمبلی ہیں تو وہ مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
’۔۔۔لیکن اگر کوئی غیر منتخب نمائندہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ حکومت سے براہ راست مذاکرات کر لے میری اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے، میری ترجیح اراکین اسمبلی ہے۔‘
مزید پڑھیں:فواد چوہدری و دیگر کی سیاسی مذاکرات کے لیے کوششیں، پی ٹی آئی نے ’نمائشی ڈائیلاگ کمیٹی‘ قرار دیدیا
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن رہنما مذاکرات کی بات ٹاک شوز میں تو کرتے ہیں لیکن کبھی سنجیدہ طور پر مذاکرات کا اغاز نہیں کیا اگر اب وہ دوبارہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ ان سے بات کریں۔
ایاز صادق نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرات کی پہلی ایک یا دو نشستوں میں کچھ نہ ہو لیکن مذاکرات کے نتیجے میں مسائل کا حل ہوگا۔
Thread – National Dialogue Committee meeting concluded in Islamabad on January 7, 2026. The meeting was attained all the representatives of Pakistani political parties and various stakeholders. The meeting focused on Pakistan’s political instability and economic challenges 1️⃣ pic.twitter.com/SsAw7lLbr0
— Jawad Yousafzai (@JawadYousufxai) January 7, 2026
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ جس طرح کا اعلامیہ قومی ڈائیلاگ کانفرنس نے جاری کیا ہے اس طرح کے اعلامیے تو ہم متعدد بار جاری کرتے ہیں، جس طرح اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی کو رہا کیا جائے تو وہ تو ہمارے اختیار میں نہیں ہے ان کو تو عدالتوں سے سزا ہوئی ہے۔
’ہم یہ کہتے ہیں کہ مل کر بیٹھ جائیں اور اس پر بات کریں کہ کس طرح ملک میں امن ہو سکتا ہے کس طرح دہشتگردی ختم ہو سکتی ہے، ایک طرف تو اپوزیشن ڈائیلاگ کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات ہیں کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان کو سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قومی ڈائیلاگ اور میثاق کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی مذاکرات نہیں ہوں گے حالانکہ ملاقاتوں پر تو پابندی اب لگی ہے اس سے پہلے کئی مہینوں تک رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کی عمران خان سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔
’اس وقت کیوں مذاکرات کی بات نہیں کی گئی، مذاکرات کی دعوت حکومت کی جانب سے تو پہلے بھی دی گئی تھی جو مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پی ٹی ائی نے خود نامزد کیے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ مذاکرات کر لیں لیکن پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرتی۔‘













