قومی ڈائیلاگ کانفرنس کے انعقاد پر حکومتی رد عمل کیا رہا؟

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں، صدر مملکت آصف زرداری اور مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے سمیت مختلف تجاویز دی گئی ہیں، ان تجاویز پر حکومتی رہنماؤں کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کا مستقل اختیار دے رکھا ہے، اگر اپوزیشن بات کرنے کے لیے آگے آئے گی تو میں وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری، نواز شریف اور وزیراعظم کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی تجویز

’اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی ابھی بھی موجود ہے، لیکن اپوزیشن کبھی مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں رہی، میڈیا پر ان کے بیانات سنے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اس کے بعد میں نے ان کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔‘

ایاز صادق نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے مذاکرات کے لیے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اراکین ہی آئیں گے تو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے جو ارکان ہیں اگر تو وہ رکن قومی اسمبلی ہیں تو وہ مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔

’۔۔۔لیکن اگر کوئی غیر منتخب نمائندہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ حکومت سے براہ راست مذاکرات کر لے میری اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے، میری ترجیح اراکین اسمبلی ہے۔‘

مزید پڑھیں:فواد چوہدری و دیگر کی سیاسی مذاکرات کے لیے کوششیں، پی ٹی آئی نے ’نمائشی ڈائیلاگ کمیٹی‘ قرار دیدیا

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن رہنما مذاکرات کی بات ٹاک شوز میں تو کرتے ہیں لیکن کبھی سنجیدہ طور پر مذاکرات کا اغاز نہیں کیا اگر اب وہ دوبارہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ ان سے بات کریں۔

ایاز صادق نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرات کی پہلی ایک یا دو نشستوں میں کچھ نہ ہو لیکن مذاکرات کے نتیجے میں مسائل کا حل ہوگا۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ جس طرح کا اعلامیہ قومی ڈائیلاگ کانفرنس نے جاری کیا ہے اس طرح کے اعلامیے تو ہم متعدد بار جاری کرتے ہیں، جس طرح اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی کو رہا کیا جائے تو وہ تو ہمارے اختیار میں نہیں ہے ان کو تو عدالتوں سے سزا ہوئی ہے۔

’ہم یہ کہتے ہیں کہ مل کر بیٹھ جائیں اور اس پر بات کریں کہ کس طرح ملک میں امن ہو سکتا ہے کس طرح دہشتگردی ختم ہو سکتی ہے، ایک طرف تو اپوزیشن ڈائیلاگ کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات ہیں کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔‘

مزید پڑھیں: پاکستان کو سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قومی ڈائیلاگ اور میثاق کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی مذاکرات نہیں ہوں گے حالانکہ ملاقاتوں پر تو پابندی اب لگی ہے اس سے پہلے کئی مہینوں تک رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کی عمران خان سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔

’اس وقت کیوں مذاکرات کی بات نہیں کی گئی، مذاکرات کی دعوت حکومت کی جانب سے تو پہلے بھی دی گئی تھی جو مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پی ٹی ائی نے خود نامزد کیے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ مذاکرات کر لیں لیکن پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرتی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

راجن پور اور کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا صفایا، 500 سے زائد مجرموں نے ہتھیار ڈال دیے، مریم نواز

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟