نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم تجاویز سامنے آگئیں۔
اجلاس میں صدر مملکت آصف زرداری، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکومتی حکمت عملی تیار، وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا
اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت، فواد چوہدری، بیرسٹر سیف، عمران اسماعیل اور شہزاد وسیم شریک ہوئے۔ شرکا نے مذاکرات کے طریقہ کار اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر تفصیل سے بات چیت کی۔
نیشنل ڈائلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام نینشل کانفرنس کا انعقاد
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ ، شیر افضل مروت ، بیرسٹر سیف ، عمران اسماعیل اور شہزاد وسیم کانفرنس میں موجود
،صحافی کاشت عباسی، حفیظ اللہ نیازی ، اطہر کاظمی بھی کانفرنس میں موجود pic.twitter.com/HvTTe3ziIX— Muhammad Aalijah Khan (@MuhammadAalija1) January 7, 2026
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اپوزیشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سیاسی قیدیوں کے معاملے پر بھی ڈائیلاگ کمیٹی کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔
مزید کہا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ضروری ہے، سیاسی کارکنوں کی رہائی کے بعد حکومت پر عوام اور سیاسی حلقوں کا اعتماد بڑھے گا، میڈیا کی سنسرشپ ختم کی جائے اور سیاسی شخصیات پر مقدمات ختم کیے جائیں۔
اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نیشنل ڈائیلاگ کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے، اور آئندہ اجلاس ملتان میں منعقد ہوگا تاکہ مذاکرات کے عمل کو مزید تقویت دی جا سکے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، اور کارکنان کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان لوگوں سے ہوشیار رہیں۔
گزشتہ روز ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے ایک بیان میں کہاکہ ایک نام نہاد نمائشی ڈائیلاگ کمیٹی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو گمراہ کن پیغامات ارسال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ وہی عناصر ہیں جنہوں نے مشکل ترین وقت میں چیئرمین عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑا، کھلے عام پریس کانفرنسیں کیں، سوشل میڈیا پر اعلانات کے ذریعے پارٹی سے لاتعلقی اختیار کی اور عملاً منحرف ہو گئے۔
مزید پڑھیں: مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف
’ان افراد نے نہ صرف اپنی سیاسی وابستگی ختم کرنے کا خود اعلان کیا بلکہ بعد ازاں دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر کے وہاں باقاعدہ عہدے بھی حاصل کیے۔‘
ترجمان نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے تمام رہنماؤں، عہدیداران اور کارکنان کو واضح اور دوٹوک ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ وہ اس نام نہاد نمائشی ڈائیلاگ کمیٹی یا اس طرز کے کسی بھی سیاسی تماشے سے مکمل طور پر ہوشیار اور دور رہیں۔














