عوام سے غیرفعال ہزاروں میگا واٹ بجلی کے کھربوں روپے وصول کیے جانے کا انکشاف

ہفتہ 10 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکٹریٹ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عوام سے 14 ہزار میگاواٹ غیر فعال بجلی کے لیے 2.2 کھرب روپے وصول کیے گئے ہیں، جبکہ کراچی میں لوڈشیڈنگ سے متعلق نیپرا کی دو سال پرانی زیر التوا سروے رپورٹ دو دن میں طلب کر لی گئی ہے۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کراچی کے مطابق اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرپرسن سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی۔ اجلاس میں سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی اور نیپرا کے دیگر امور زیر بحث آئے اور کمیٹی کے دیگر ارکان بھی شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم لیوی بڑھنے سے عوام پر کتنا بوجھ پڑےگا، اور ماضی میں اس کی شرح کیا تھی؟

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے نیپرا کے حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ صارفین سے 2.2 کھرب روپے اس بجلی کے لیے وصول کیے گئے جو پیدا ہی نہیں ہوئی اور استعمال بھی نہیں ہوئی، یہ رقم صرف اس لیے لی جا رہی ہے کہ سردیوں میں بجلی کی کھپت کم ہو جاتی ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے اس بات کی تائید کی اور کہا کہ عوام کے لیے بجلی کا مسئلہ سنگین ہے، چاہے آئی پی پیز کے آڈٹ کیے گئے ہوں یا ناکارہ پلانٹس بند کیے گئے ہوں، لیکن عوام کو سہولت نہیں مل رہی۔

چیئرپرسن کمیٹی نے سفارش کی کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنی بجلی پیدا ہوئی، کتنی فراہم کی گئی اور حکومت سے کیپسٹی چارجز کتنے لیے گئے۔ آڈٹ میں پلانٹس کی فزیبلٹی، زمین کی قیمت، لاگت، ایندھن کے استعمال اور مشینری کی سالانہ چیکنگ بھی شامل ہونی چاہیے۔

نیپرا کے حکام نے وضاحت کی کہ ٹیرف کے دو حصے ہیں: کیپسٹی چارجز اور انرجی چارجز۔ کیپسٹی چارجز بجلی کے استعمال سے مشروط نہیں اور ان میں کمی نہیں کی جا سکتی، جبکہ سیلز کا کام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کا سارا بوجھ عوام پر، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تو کام چلیں گے، سپریم کورٹ

کراچی کے تاجر زبیر موتی والا نے بتایا کہ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج اور گردشی قرضے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بجلی کے بل زیادہ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 42 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم ہے جس میں 28 ہزار میگاواٹ فعال ہے، جبکہ 14 ہزار میگاواٹ غیر فعال ہونے کے باوجود عوام سے اس کی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔

سندھ اسمبلی کے رکن شارق جمال نے کہا کہ بجلی چوری کرنے والے اور بل ادا نہ کرنے والے صارفین کو سزا دی جاتی ہے، جبکہ بل ادا کرنے والے شہری اذیت بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ لوڈشیڈنگ والے علاقوں میں عوامی عدالت قائم کی جائے اور کے-الیکٹرک کو عوامی سطح پر جوابدہ بنایا جائے۔

چیئرپرسن کمیٹی نے کراچی میں نیپرا کے سروے کی رپورٹ دو دن میں طلب کی اور کہا کہ یہ رپورٹ صوبائی اسمبلی کے ارکان اور کراچی چیمبر آف کامرس کے ساتھ بھی شیئر کی جائے۔ زبیر موتی والا نے مزید بتایا کہ کے-الیکٹرک کے پاس صارفین سے 46 ارب روپے کا ڈپازٹ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کو اضافی وصولی واپس کرنے کا فیصلہ

سینیٹر عبدالقادر نے کمیٹی کے چیئرپرسن سے درخواست کی کہ کے-الیکٹرک کے خلاف عوامی شکایات کے خطوط چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو بھی ارسال کیے جائیں تاکہ مناسب حکم امتناع جاری کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد گیس لیکج حادثہ، ‘میرا سب ختم ہوگیا، گھر واپس کیسے جائیں گے؟’

یوٹیوبر ڈکی بھائی کیس: این سی سی آئی اے کے افسروں سے کتنے کروڑ روپے ریکور ہوچکے ہیں؟

ونڈر بوائے کیوں؟

محسن نقوی سے اماراتی وفد کی ملاقات، دونوں ممالک میں پری امیگریشن کلیئرنس معاہدے پر اتفاق

فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘