پاکستان کے معروف بزنس مین عارف حبیب نے کہا ہے کہ قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو ایک سال میں منافع بخش ادارہ بنا کر دکھائیں گے۔
عارف حبیب نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ وہ 2016 میں پی آئی اے بورڈ کے ممبرمنتخب ہوئے تھے، ان کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن کی بہتری کے لیے بحیثیت بورڈ ممبر حکومت کو کئی بار تجاویز بھی دی گئیں، پی آئی اے کے خسارے کی بڑی وجہ قرض پر قرض اور بھاری سود ادائیگیاں تھیں۔
انہوں نے کہاکہ پی آئی اے پر قریباً 800 ارب روپے کا قرض واجب الادا ہو گیا تھا، حکومت کی سالانہ ضمانت پر پی آئی اے پر مسلسل قرض بڑھتا رہا، پی آئی اے کی پہلی بولی مینجمنٹ سسٹم کی وجہ سے ناکام ہوئی تھی، شرح سود میں کمی، روپے کی قدر میں بہتری اور تیل کی قیمتوں کا کنڑول پی آئی اے کی نجکاری میں مدد دے گیا۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے نجکاری: ماضی میں پرائیوٹائز ہونے والے ادارے بہتر ہوئے یا بدتر؟
’مینجمنٹ اسٹرکچر اور معاشی حالات کی بہتری سے اس بار پی آئی اے کی بولی کامیاب ہوئی، پی آئی اے کے پاس 34 جہازوں میں سے صرف 17 جہاز آپریشنل ہیں۔‘
’کسی کو نکالا نہیں جائے گا لیکن کام کرنے والوں کو ترجیح دیں گے‘
عارف حبیب کے مطابق پی آئی اے کے زیادہ تر اثاثے ہولڈنگ کمپنی میں منتقل ہو گئے ہیں، پی آئی اے کے بزنس پلان میں کارگو سسٹم کی بہتری کے لیے خصوصی پلان مرتب کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے میں فوجی فرٹیلائزر کا شیئر 25 فیصد، عارف حبیب اور فاطمہ فرٹیلائزر کا شیئر 25 فیصد ہے، جبکہ پی آئی اے میں باقی 25 فیصد شیئرز دیگر کنسورشیم ممبرز کے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے میں ایک سال تک کسی بھی ملازم کو نوکری سے برخاست نہیں کیا جائے گا، تمام کام کرنے والوں کو میرٹ کی بنیاد پر ہی آگے رکھا جائے گا، پی آئی اے فلیٹ طیاروں کا آپریشن 38 جہازوں پر مشتمل ہوگا، جبکہ ایئر لائن میں مزید ایک پارٹنر کے آنے کی گنجائش موجود ہے۔
’125 ارب روپے میں پی آئی اے کو با آسانی چلا لیں گے‘
عارف حبیب کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کے زیادہ تر اثاثے ہولڈنگ کمپنی میں منتقل ہوگئے ہیں جبکہ اس کے موجودہ خسارے کو ایک سال تک برداشت کیا جائے گا۔
’پی آئی اے کو 70 ارب روپے سے باآسانی چلایا جاسکتا تھا مگر اس کے باوجود 125 ارب روپے دیے، پی آئی اے کو موصول 125 ارب روپے میں سے نئے انجن، قرضے اور دیگر آپریشنل اخراجات کو پورا کیا جائے گا، بزنس پلان میں کارگو سسٹم کی بہتری کے لیے خصوصی پلان مرتب کیا گیا ہے۔
’ایک سال میں پی آئی اے منافع بخش ادارہ بن جائے گا‘
عارف حبیب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک سال تک پی آئی اے سے کسی کو برخاست نہیں کیا جائے گا جبکہ کام کرنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے فلائٹس میں سیفٹی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، یہی عوامل ہیں جن کی بنیاد پر میں یقین رکھتا ہوں کے ہم ایک برس میں قومی ایئر لائن کو ایک منافع بخش ادارہ بنا کر دکھائیں گے۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے نجکاری: عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں قومی ایئر لائن کو خرید لیا
انہوں نے کہاکہ پی آئی اے پر مجموعی طور پر 181 ارب روپے کے واجبات ہیں، ایوی ایشن انڈسٹری کے بعد اگلا قدم بلو اکانومی میں انویسٹمنٹ کا ہوگا، سرکاری اداروں کے خسارے وہاں بیٹھے افسران کے ذاتی مفادات کی وجہ سے بڑھے، حکومت کا کام بزنس کرنا نہیں یہ کام پرائیوٹ سیکٹر کا ہے۔
کاروباری زندگی کے راز
وی نیوز سے گفتگو میں عارف حبیب نے اپنی کاروباری زندگی سے متعلق کئی رازوں سے پردہ اٹھایا۔ پی آئی اے کی ترقی کے حوالے پُراعتماد نظر آنے والے عارف حبیب کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اسٹاک ایکسچیبج میں 1980 کے وقت پہلی بار بورڈ میں منتخب ہوئے تھے، پاکستان اسٹاک ایکسچیبج اور سینڑل ڈپازٹری کمپنی میں اہم معاشی اصلاحات میں حصہ ڈالا۔
’پاک عرب کمپنی کی پہلی بار بولی میں حصہ لیا، حسین داؤد اور میاں منشا سے مقابلہ جیتا، پاکستان اسٹاک ایکسچیبج میں مارکیٹ انفارمیشن سسٹم کو پہلی بار ڈیجیٹل سسٹم سے لنک کیا جبکہ امریکی اسٹاک ایکسچینج نے سینٹرل ڈپازٹری کمپنی میں رسک مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے میں مدد کی۔‘
اسٹاک ایکسچینج میں بڑی کامیابی
عارف حبیب نے کہاکہ وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ماڈرن سسٹم سے جوڑتے رہے اور اسٹاک سرمایہ بڑھتا رہا، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی کےفعال ہونے سے اسٹاک شیئرز کا ٹرن اوور 70 لاکھ سےبڑھ کر ایک ارب ہوگیا، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی کے نہ ہونے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز سیٹلمنٹ ہفتے میں ایک بار ہوتی تھی، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی سے پاکستان اسٹاک ایکسچیبج کی شیئرز سیٹلمنٹ اب روزانہ ہوتی ہے۔












