پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں موسم بہار کے روایتی تہوار بسنت کو محفوظ اور منظم انداز میں منانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے جامع ضوابط جاری کردیے ہیں۔
بسنت 6، 7 اور 8 فروری کو منائی جائے گی، جبکہ اس دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے دفعہ 144 نافذ رہے گی۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھائے جا رہے ہیں، تاکہ ماضی کی تلخ یادوں سے سبق سیکھتے ہوئے تہوار کو پُرامن بنایا جا سکے۔
بسنت جو پنجاب کی ثقافت کا اہم حصہ ہے، روایتی طور پر پتنگ بازی کے ذریعے منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار ہزاروں سال پرانا ہے اور موسم بہار کی آمد کا جشن ہے، جس میں لوگ رنگ برنگی پتنگوں سے آسمان کو سجاتے ہیں۔
تاہم گزشتہ 2 دہائیوں میں پتنگوں کی ڈور سے ہونے والے حادثات، خاص طور پر دھاتی یا کیمیکل والی تیز ڈور سے گلے کٹنے کے واقعات نے اسے متنازع بنا دیا تھا۔
2005 میں لاہور ہائیکورٹ نے ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے پتنگ بازی پر پابندی عائد کی تھی، جو کئی سال تک نافذ رہی۔ اب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت حکومت نے محدود اور محفوظ انداز میں بسنت کی اجازت دی ہے، جو صرف لاہور ضلع کی حدود میں 3 دنوں تک ہوگی۔
پتنگ اور ڈور کی تیاری، فروخت اور کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن لازمی قرار
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پتنگ اور ڈور کی تیاری، فروخت اور کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں چار کیٹیگریز کے فارم جاری کیے گئے ہیں
’فارم اے پتنگ سازوں اور ڈور بنانے والوں کی رجسٹریشن کے لیے، جبکہ رجسٹرڈ افراد کو فارم بی کے ذریعے سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا جس پر کیو آر کوڈ درج ہوگا۔‘
یہ کیو آر کوڈ ڈور اور پتنگوں پر لگایا جائے گا، اور فروخت کنندگان کو اسے اپنی دکانوں اور پینا فلیکس پر نمایاں کرنا ہوگا۔ فارم سی اور ڈی کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کے لیے مختص ہیں۔
پتنگوں کے سائز پر بھی پابندیاں عائد
پتنگوں کے سائز پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں: پتنگ کی لمبائی 30 انچ اور چوڑائی 34 انچ سے زیادہ نہیں ہوگی، جبکہ گڈا کی لمبائی 34 انچ اور چوڑائی 40 انچ تک محدود ہوگی۔ ڈور صرف کاٹن کے دھاگے سے بنائی جائے گی، جس میں 9 سے زیادہ تاریں نہیں ہوں گی۔
مانجا میں گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشے کا استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن تیز مانجا، تندی، دھاتی تار اور کیمیکل کی ممانعت ہے۔
ڈور کے لیے صرف پنا استعمال کیا جائے گا، چرخی کی تیاری پر پابندی ہوگی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کی رجسٹریشن منسوخ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بسنت کے تینوں دنوں میں 18 سال سے کم عمر بچوں پر پتنگ بازی پر مکمل پابندی ہوگی۔ اگر کم عمر بچے پتنگ اڑاتے پائے گئے تو ان کے والدین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔
پتنگ بازی کے لیے 72 گھنٹے کا وقت مختص کیا گیا ہے۔ محفوظ بسنت کو یقینی بنانے کے لیے لاہور میں 100 کیمپس میں 10 لاکھ موٹرسائیکل سیفٹی راڈز اور وائر تقسیم کیے جائیں گے۔
ٹریفک انتظامیہ نے 23 روٹس پر فری رائیڈ کی تجویز دے دی
ٹریفک انتظامیہ نے 23 روٹس پر فری رائیڈ کی تجویز دی ہے، جبکہ سیفٹی راڈز کے بغیر کوئی موٹرسائیکل شہر کی سڑکوں پر نہیں آسکے گی، فائر ورکس اور ہوائی فائرنگ پر بھی سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
کائٹ فلائنگ میٹیریل کی مینوفیکچرنگ صرف لاہور ضلع میں ہوگی، اور 6 فروری سے پہلے پتنگ بازی کی کوئی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کمشنر لاہور مریم خان نے کہا ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہیں تاکہ بسنت ایک خوشگوار تہوار بن سکے۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس خالد اسحاق نے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی اور ایکٹ پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مسترد کردی۔
عدالت نے درخواست گزار کو کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کو فریق بنانے کا حکم دیا اور مزید کارروائی 16 جنوری تک ملتوی کردی۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں بسنت پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت: پابندیوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا فیصلہ
جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے ایکٹ کو چیلنج کیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سرکاری وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کی ہے۔
حکومت پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ضوابط کی پابندی کریں تاکہ تہوار خوشیوں کا باعث بنے۔














