پائیدار اور بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے قومی ڈائیلاگ ضروری، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ثمرات اگر عام لوگوں تک پہنچے تو بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے رویے درست نہیں کریں گے تو آئین اور قانون میں جو بھی لکھیں فائدہ نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے وقت وزیراعظم نے مجھے کہا کہ ایم کیو ایم کی طرف سے بلدیاتی نظام پر آنے والے مسودے پر جو جماعتیں تیار ہیں ان کے ساتھ بیٹھیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد کا نیا بلدیاتی نظام، ایک شہر، 3 میئر، کوئی فائدہ ہو گا؟

ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم سے قبل یا بعد میں صوبوں اور وفاق کا رشتہ ہے وہ برقرار رہے لیکن اگر ہم درست معنوں میں اختیارات کی منتقلی چاہتے ہیں تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیے بغیر ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم سب کو کھلے ذہن کے ساتھ بیٹھ کر قومی ڈائیلاگ کرنا چاہیے کہ ہمیں ایک پائیدار اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہیے، اسی میں پاکستان کی بھلا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع، کانگریس کا کنٹرول کس کے ہاتھ آئے گا؟

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئے، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا