امریکا میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ان انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آخری 2 برسوں کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ نتائج سے نہ صرف واشنگٹن میں طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے بلکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول کا فیصلہ بھی ہوگا۔
امریکی ریاست ورمونٹ کے بعض علاقوں میں مشرقی وقت کے مطابق صبح 5 بجے، یعنی پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے، پولنگ اسٹیشنز کھلنے کے ساتھ ووٹنگ کا آغاز ہوا۔
امریکا کی مختلف ریاستوں میں مقامی اوقات کے مطابق پولنگ شروع ہونے اور ختم ہونے کے اوقات مختلف ہیں۔ سب سے آخر میں الاسکا کے پولنگ اسٹیشنز مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے بند ہوں گے۔
پاکستانی وقت کے مطابق پولنگ منگل کی سہ پہر 3 بجے شروع ہوئی اور بدھ 4 نومبر کی صبح تک جاری رہے گی۔ آخری پولنگ اسٹیشنز پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً صبح 10 بجے بند ہوں گے۔
ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ
وسط مدتی انتخابات میں امریکی ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔
اس وقت ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کو ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مزید 3 نشستیں، جبکہ سینیٹ میں اکثریت کے لیے مجموعی طور پر 4 اضافی نشستیں درکار ہیں۔
اگر ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کے بعض حصوں کو روکنے اور ان کی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔
اسی طرح سینیٹ میں شکست سے صدر ٹرمپ کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی تقرریوں میں بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
مہنگائی اور ایران کے خلاف جنگ انتخابی مہم کے اہم موضوعات
وسط مدتی انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی پر ملک گیر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکا میں زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ایران کے خلاف جنگ پر عوامی ناراضی کے باعث ریپبلکن پارٹی کے خلاف سیاسی ماحول میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ گزشتہ سال قیمتیں کم کرنے کے وعدے کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئے تھے، تاہم مہنگائی، درآمدی محصولات اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی شہریوں پر معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
80 سالہ صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی شرح 30 فیصد کی ابتدائی سطح کے آس پاس رہی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹیکسوں میں کمی اور امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات سے امریکی شہریوں کو فائدہ ہوگا۔ پارٹی ڈیموکریٹک امیدواروں کو بائیں بازو کے انتہا پسندوں کے طور پر بھی پیش کررہی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کی مضبوط ریاستوں میں بھی سخت مقابلے کا امکان
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی اکثریت حاصل ہے، تاہم انتخابی مقابلہ کنساس، ٹیکساس، آئیووا، اوہائیو اور الاسکا جیسی روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کی حامی ریاستوں تک پھیل گیا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس کو بھی بعض سخت مقابلے والی نشستوں کا دفاع کرنا پڑ رہا ہے۔
ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر شدید اختلافات سامنے آئے، جہاں کانگریس کی رکن ہیلی اسٹیونز نے اپنی جماعت کے امیدوار کے بجائے ریپبلکن امیدوار کی حمایت کردی۔
انتخابی نتائج سے متعلق پیش گوئیاں کرنے والے ادارے ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو کی حتمی پیش گوئی کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس 241 اور ریپبلکنز 194 نشستیں حاصل کرسکتے ہیں۔
اسی ادارے نے سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کو 48 کے مقابلے میں 52 نشستوں سے برتری حاصل ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران سیاسی اشتہارات پر 11 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی گئی، جبکہ صدر ٹرمپ کے اتحادی ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے بھی ریپبلکن پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے کروڑوں ڈالر فراہم کیے۔
ریپبلکن پارٹی کو امید ہے کہ انتخابات کے دن اس کے حامی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے، کیونکہ رائے عامہ کے جائزے بعض اوقات کسی جماعت کی حقیقی حمایت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔
انتخابی نتائج تسلیم کیے جانے پر خدشات
پولنگ ختم ہونے کے بعد ایک اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا ریپبلکن پارٹی انتخابی نتائج تسلیم کرے گی یا نہیں۔
صدر ٹرمپ، جنہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کا نتیجہ تبدیل کرانے کی کوشش کی تھی، متعدد بار بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔
انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے ڈیموکریٹس پر انتخابات میں دھوکا دہی کے الزامات بھی لگائے ہیں۔
کانگریس میں شکست ہوئی تو ہر بل ویٹو کردوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کی رات وائٹ ہاؤس میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج دیکھیں گے۔
انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو وہ ڈیموکریٹس کی قانون سازی میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
پیر کو ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہر بل کو ویٹو کردیں گے۔
تاہم انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ مستقبل میں ڈیموکریٹس کے ساتھ بعض معاملات پر اتفاق رائے ہوسکتا ہے۔











