پاکستان میں دہشتگردی کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان ملوث، سہیل آفریدی تاحال لاعلم

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیان کو گمراہ کن اور منفی قرار دیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں دہشتگردی اور افغان سرزمین کے استعمال کے حوالے سے حکومتی موقف پر سوالات اٹھائے تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ پر لکھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی افغانستان کے ترجمان کے طور پر بات کر رہے تھے، جو انتہائی قابلِ مذمت اور شرمناک عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سہیل آفریدی کی جانب سے افغانستان کی ترجمانی قابل مذمت اور شرمناک عمل ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کی پشت پناہی کے شواہد دیکھ چکی ہے اور افغانستان کی سرزمین کے دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں۔

سہیل آفریدی نے افغانستان اور دہشتگردی کے حوالے سے کیا کہا؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جو انہوں نے سندھ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دی۔ اس کلپ میں سہیل آفریدی سے خیبر پختونخوا اور ملک میں دہشتگردی اور افغانستان سے متعلق سوال کیا گیا۔ جس پر پہلے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ تفصیل میں جواب نہیں دیں گے۔

اسی کلپ میں وہ کہتے ہیں کہ سال 2022 میں ان کی جماعت دہشتگردوں کی مبینہ آبادکاری پر کھل کر آواز اٹھا رہی تھی جسے کسی نے نہیں سنا اور اب آپریشن کی بات کی جا رہی ہے۔ وہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیگر کئی ممالک کی سرحدیں بھی افغانستان سے ملتی ہیں لیکن وہاں دہشتگردی کا مسئلہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاک افغان علما عسکریت پسندی کے خلاف، مسلح گروہ بھی اس معاملے پر غور کریں، مولانا فضل الرحمان

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں دہشتگردی افغانستان سے ہوتی ہے یا افغان ملوث ہیں تو اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں۔

اس بیان پر وفاقی وزرا نے شدید ردِعمل دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے، جبکہ وفاقی وزیر مملکت بلال چوہدری نے پی ٹی آئی کو خبردار کیا کہ دہشتگردوں کی حمایت پر کوئی رعایت نہیں ہو گی۔

‘خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک دہشتگردی میں افغان ملوث ہیں’

سال 2025 کے آخری مہینوں میں خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا۔ 3 خودکش حملہ آوروں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جسے فورسز نے بروقت کارروائی میں ناکام بنا دیا۔

تحقیقات کے بعد سامنے آنے والے حقائق کے مطابق حملہ آور افغان شہری تھے اور حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں ہوئی تھی۔ انہی دنوں جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ایک کیڈٹ کالج پر بھی آرمی پبلک اسکول کی طرز پر حملے کی کوشش کی گئی جسے فورسز نے ناکام بنا دیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور افغان شہری تھے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان براہ راست ملوث ہوتے ہیں جبکہ باقی واقعات میں بھی کسی نہ کسی حد تک افغانوں کا کردار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان سے منشیات یورپ کیسے پہنچ رہی ہیں؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک غیر ملکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں افغان شہری اور بھارتی فوجی افسران ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے دہشتگردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں جبکہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں تعینات ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ پاکستان کو دہشتگردی کے حوالے سے افغانستان سے شدید تحفظات ہیں اور پاکستان افغان حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں سرگرم کالعدم تنظیمیں پاکستان میں سرکاری و نجی املاک اور عوام کو نشانہ بنا رہی ہیں اور سرحدی علاقوں میں بھی فورسز پر حملے کر رہی ہیں۔

بلوچستان میں دہشتگردی میں افغان ملوث

حکام کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بھی افغان ملوث ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کو کوئٹہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے میں دوسرا خودکش حملہ آور افغان شہری تھا جس کی شناخت محمد سہیل عرف خباب کے نام سے ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟

مارچ 2025 میں کوئٹہ سے پشاور آنے والی ٹرین کو درہ بولان میں نشانہ بنایا گیا اور دہشتگردوں نے مسافروں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ 30 گھنٹے کے آپریشن کے بعد ٹرین کو کلیئر کیا گیا۔ تحقیقات میں حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملے اور دہشتگرد افغان نمبروں پر رابطے میں تھے۔

‘افغانستان میں پاکستان مخالف کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں’

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں پاکستان مخالف کالعدم گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار محمود جان بابر کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی اس وقت افغانستان سے سرگرم ہے اور افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔

‘اب بھی افغانستان میں دہشتگردوں کی تربیت ہوتی ہے’

خیبر پختونخوا پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ افغانستان میں اب بھی دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے اور کالعدم گروہ اپنے محفوظ ٹھکانوں میں خودکش حملہ آوروں کو تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کئی کیسز ہیں جن میں دہشتگرد یا تو افغان شہری ہیں یا افغانستان میں تربیت یافتہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مچل اسٹارک آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار، دسمبر 2025 کا اعزاز آسٹریلوی فاسٹ بولر کے نام

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر سابق پی ٹی آئی رہنما کیا کہتے ہیں؟

پاک سعودی دفاعی معاہدے میں تُرکیہ کی شمولیت کا کتنا اِمکان ہے؟

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘