وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حکومت ہر وقت پی ٹی آئی سے بات چیت کے لیے تیار ہے، میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئےگا تو دیکھیں گے اور اپنا مؤقف بھی دیں گے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 8 فروری کو ملک میں کوئی پہیہ جام ہڑتال نہیں ہوگی، نظام زندگی مفلوج کرنے کے لیے جو اکا دکا لوگ باہر نکلیں گے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
آئیں نیا میثاق جمہوریت کریں، پی ٹی آئی نے جمہوری قوتوں کو دعوت دے دی
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے رہنما ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان سے ملاقات کریں تو ہو جائےگی، تاہم جیل رولز اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہاکہ محمود اچکزئی ہمارے لیے قابل احترام ہیں، اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں ایک آدھ دن سے زیادہ نہیں لگے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کو غیرقانونی ایجنڈے سے باز آ جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نئے میثاقِ جمہوریت کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو باہمی اشتراک کی دعوت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ازسرِنو تشکیل کا مطالبہ کیا ہے، جس پر تمام فریقین کا اتفاق ہو۔
یہ فیصلہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی صدارت میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں پارٹی کے ارکانِ قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قومی ڈائیلاگ اور میثاق کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے بے بنیاد مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔














