بنگلہ دیش کے کرکٹرز نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ڈائریکٹر ایم ناظم الاسلام نے استعفیٰ نہ دیا تو وہ کل سے ہر قسم کی کرکٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔
یہ اعلان کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی ڈبلیو اے بی) کے صدر محمد مٹھن نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
مزید پڑھیں: ڈائریکٹر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا متنازعہ بیان، تمیم اقبال کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایم ناظم الاسلام کی جانب سے کرکٹرز کے بارے میں دیے گئے ایسے بیانات کے خلاف احتجاجاً کیا گیا ہے جنہیں کھلاڑیوں نے ناقابل قبول اور دل آزاری قرار دیا ہے۔
محمد مٹھن نے واضح کیاکہ اگر مقررہ وقت تک استعفیٰ نہ دیا گیا تو تمام کھلاڑی ہر سطح کی کرکٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔
اس تنازعے نے اس وقت شدت اختیار کی جب بی سی بی کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین ایم ناظم الاسلام سے بھارت میں ہونے والے آئندہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی ممکنہ عدم شرکت سے متعلق سوال کیا گیا۔
اس پر انہوں نے کہاکہ بورڈ کھلاڑیوں پر کروڑوں ٹکا خرچ کرتا ہے، اگر یہ پرفارم نہیں کرتے تو کیا یہ رقم ان سے واپس لی جانی چاہیے۔
اس سے قبل ایم ناظم الاسلام کو اس وقت بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر سابق قومی کپتان تمیم اقبال کے بارے میں ایک توہین آمیز سیاسی اصطلاح استعمال کی تھی۔
سی ڈبلیو اے بی کے مطابق ایک سینیئر بورڈ عہدیدار کی جانب سے اس قسم کی زبان پورے کرکٹ حلقے کے لیے نہایت توہین آمیز اور نقصان دہ ہے۔
محمد مٹھن نے کہاکہ ایسے الفاظ کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پہلے یہ زبان ایک فرد کے خلاف استعمال کی گئی اور اب تمام کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک ڈائریکٹر کو اپنے الفاظ کے استعمال میں انتہائی محتاط ہونا چاہیے کیونکہ ان کے بیانات سے پوری کرکٹ برادری کو دکھ پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ڈائریکٹر کی ذاتی آرا بورڈ کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتیں۔
تاہم سی ڈبلیو اے بی نے اپنا مؤقف برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے وقار اور کھیل کی روح کے تحفظ کے لیے ایم ناظم الاسلام کا استعفیٰ ناگزیر ہے۔













