امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد کردی

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے لیے پیش کی گئی وار پاورز قرارداد کو مسترد کر دیا۔

قرارداد کی قسمت 50 کے مقابلے میں 50 ووٹوں پر آ کر رک گئی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹائی بریکنگ ووٹ دے کر اسے ناکام بنا دیا۔

اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری لینے کا پابند بنانا تھا۔

 صرف 3 ریپبلکن سینیٹرز کی حمایت

ڈیموکریٹک سینیٹرز نے متفقہ طور پر قرارداد کی حمایت کی، تاہم ریپبلکن پارٹی کے صرف 3 ارکان ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
ابتدائی طور پر 5 ریپبلکن سینیٹرز نے قرارداد کو سینیٹ میں لانے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جن میں ٹوڈ ینگ (انڈیانا) اور جوش ہالی (مسوری) بھی شامل تھے، مگر حتمی ووٹنگ سے قبل دونوں نے حمایت واپس لے لی۔

 آخری لمحوں میں ووٹ تبدیل

جوش ہالی نے ووٹنگ سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ اب قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے، جبکہ ٹوڈ ینگ آخری لمحات تک غیر یقینی حیثیت رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ پر ممکنہ قبضے کیخلاف امریکی سینیٹ میں بل پیش

بعد ازاں ٹوڈ ینگ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہیں اعلیٰ قومی سلامتی حکام سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وینزویلا میں اس وقت کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں۔ اگر مستقبل میں بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی تو ٹرمپ انتظامیہ پہلے کانگریس سے اجازت لے گی۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ایک خط بھی شیئر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ حالات اجازت دیں تو کانگریس کو پیشگی اطلاع دی جائے گی۔

 وینزویلا حملے پر قانونی سوالات

یہ قرارداد 3 جنوری کو صدر ٹرمپ کے اچانک اعلان کے بعد پیش کی گئی، جس میں انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت گرانے کے لیے فوجی کارروائی کا اعتراف کیا تھا۔

حملے کے دوران دارالحکومت کاراکاس اور فوجی اڈوں پر دھماکے ہوئے۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا۔ 2 امریکی فوجی زخمی اور تقریباً 80 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کیوبا کے سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ ہم ملک چلائیں گے جب تک ایک محفوظ اور مناسب انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو جائے۔

 کانگریس کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی

صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تسلیم کیا کہ کانگریس کو حملے سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا۔
روبیو کے مطابق یہ ایسا مشن تھا جس میں کانگریس کو اطلاع دینا ممکن نہیں تھا۔

ٹرمپ نے اس کی وجہ سیکیورٹی خدشات بتاتے ہوئے کہا کہ  کانگریس میں معلومات لیک ہو جاتی ہیں، ہم لیکس نہیں چاہتے تھے۔

 آئینی اختیارات پر بحث

امریکی آئین کے مطابق صدر افواج کا کمانڈر انچیف ہوتا ہے لیکن جنگ کا اعلان اور فوجی کارروائی کی اجازت دینا کانگریس کا اختیار ہے۔

تاہم 9/11 کے بعد منظور ہونے والی AUMFs کے تحت صدور نے یکطرفہ کارروائیاں کیں، مگر وینزویلا ان اجازت ناموں کے دائرے میں نہیں آتا، جس سے حملے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھے۔

 جسٹس ڈیپارٹمنٹ کا متنازع میمو

امریکی محکمہ انصاف نے ایک 22 صفحات پر مشتمل میمو جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ مادورو کی گرفتاری ایک “قانونی کارروائی” تھی، جنگ نہیں، اس لیے کانگریس کی اجازت ضروری نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیے امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے عالمی محصولات کے منصوبے کو مسترد کر دیا

میمو میں کہا گیا کہ اگر صدر جانتے ہوں کہ کارروائی جنگ میں بدل جائے گی تو اجازت لازم ہے، مگر دسمبر 2025 تک ایسے شواہد موجود نہیں تھے۔

ریپبلکن پارٹی میں اختلافات

کئی ریپبلکن سینیٹرز نے اس مؤقف سے اختلاف کیا، جن میں لیزا مرکوسکی، رینڈ پال اور سوزن کولنز شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان سینیٹرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ امریکا کے دفاعی اختیارات کمزور کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ووٹنگ سے قبل بعض سینیٹرز کو فون بھی کیے، جبکہ سوزن کولنز کے ساتھ گفتگو مبینہ طور پر سخت زبان میں ہوئی۔

 رینڈ پال کا مؤقف

سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ ان کا ووٹ آئین کی بالادستی کے لیے تھا کہ یہ ریپبلکن بمقابلہ ڈیموکریٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ کانگریس اور صدر کے اختیارات کا ہے۔ آئین جنگ کا اختیار کانگریس کو دیتا ہے۔

 سیاسی خطرات

قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے 3 ریپبلکن سینیٹرز میں سے صرف سوزن کولنز اس سال ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں، جس کے باعث ان کے لیے ٹرمپ کی مخالفت سیاسی طور پر زیادہ خطرناک سمجھی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا