حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے درمیان مؤثر اور مسلسل ادارہ جاتی ہم آہنگی کے نتیجے میں یونیورسل سروس فنڈ (USF) کے 12 ارب روپے عوامی فلاح کے لیے بحال کر دیے گئے ہیں۔
یہ فنڈز بنیادی سہولیات، بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ٹیلی کمیونی کیشن اور دیگر ضروری خدمات کی بہتری کے لیے مختص کیے گئے تھے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض عناصر کی جانب سے اشتعال انگیز بیانیوں اور احتجاجی سیاست کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ تاہم ریاستی اداروں کی مربوط حکمت عملی اور عوامی ضروریات پر توجہ نے ان کوششوں کو مؤثر طور پر ناکام بنا دیا۔
ادارہ جاتی ہم آہنگی، شفافیت اور اعتماد
ذرائع کے مطابق، دونوں حکومتوں کے درمیان مربوط رابطے، انتظامی تسلسل اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں یہ فنڈز دوبارہ حاصل کیے گئے، جو شفاف طرزِ حکمرانی اور ریاستی جوابدہی کا عملی ثبوت ہیں۔
بحال شدہ فنڈز کے ذریعے آزاد کشمیر کے پسماندہ علاقوں میں سماجی و معاشی شمولیت کو فروغ دیا جائے گا، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ترقیاتی منصوبے اور علاقائی فوائد
ان فنڈز سے خاص طور پر نیلم، جہلم اور حویلی جیسے علاقوں میں ٹیلی کمیونی کیشن اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے، جو مقامی آبادی کے لیے روزمرہ زندگی میں آسانی اور معاشی مواقع پیدا کریں گے۔
یہ اقدام اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ منظم حکمرانی اور ادارہ جاتی حل ہی عوامی مسائل کا دیرپا حل ہیں، نہ کہ احتجاج اور خلفشار۔ پاکستان کی جانب سے آزاد کشمیر کی سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کے لیے وابستگی ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے، جو قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بناتی ہے۔













