روحانیت یا تصوف کے حوالے سے بعض باتیں میرے جیسے دنیا داروں کو سمجھ نہیں آتیں۔ ان میں ایک خاص قسم کی مسٹری ہے یا کچھ ناقابل یقین چیزیں بھی گھلی ملی ہیں۔ میرا ذاتی طریقہ بہرحال یہ ہے کہ کئی باتیں ایسی جو سمجھ میں نہ آئیں، پھر بھی ان کو مان لیا جائے۔یہ مشورہ جناب اشفاق احمد نیپہلی ملاقات میں دیا تھا۔ داستان سرائے والے سحرانگیزادیب، ڈرامہ نگار اشفاق صاحب نے۔ تب نوجوان تھے، ان کی بات سمجھ نہ آئی مگر جلد ہی ان کی نصیحت کو ذہن نشیں کر لیا۔ اس لیے بھی کہ بعض چیزیں، بعض معاملات ہم نہیں جانتے، مگر وہ اپنی جگہ حقیقت ہوتے ہیں۔ انہیں اس لیے ماننا ہی پڑتا ہے۔
زندگی میں ہر ایک کے ساتھ ایسے واقعات ہوئے ہوں گے، میں 2 واقعات کا ذکر کرتا ہوں جو میرے ساتھ تو نہیں گزرے، مگر اس کے راوی قابل اعتماد ہیں۔ پہلا واقعہ ڈاکٹر امجد ثاقب کا ہے۔ اخوت کے سربراہ، صدارتی ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن، مصنف، ادیب۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کا میں نے ایک بار تفصیلی انٹرویو کیا تھا۔ اس میں ڈاکٹر امجد نے یہ واقعہ سنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسکول میں ایک مہربان ٹیچر تھے، جو بہت اچھا پڑھاتے تھے اور ان کا طرز تعلیم ایسا میٹھا، پیارا تھا کہ ہر شاگرد انہیں پسند کرتا۔ ڈاکٹر امجد کے بقول ایک روز انہیں اچانک اسی استاد کا خیال آیا۔ دل میں سوچ آئی کہ مجھے اپنے ان بزرگ استاد کی کچھ مدد کرنی چاہیے، وہ ریٹائر ہوچکے ہوں گے، ممکن ہے انہیں کچھ ضرورت بھی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی یلغار: تصویر کے 3 رخ
ڈاکٹر امجد ثاقب کا تعلق چنیوٹ سے ہے۔ اپنے شہر پر ان کی ایک کتاب ’شہر لبِ دریا‘ بھی شائع ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی دوست کے ذمے لگایا کہ ان استاد صاحب کا ایڈریس معلوم کر کے بھیجے۔ جب ایڈریس آگیا تو ڈاکٹر امجد نے ان استاد صاحب کے نام کا ایک کراس چیک لکھ کر کوریئر کے ذریعے بھجوادیا۔ چند دنوں بعد بزرگ استاد کا شکریے کا جوابی خط آیا۔ اس میں ایک عجیب بات لکھی کہ میں نے کہیں پڑھا علامہ اقبال نے ایک کروڑ بار درود پاک پڑھا تھا، اسی لیے وہ شاعر مشرق بن گئے۔ استاد صاحب کے بقول انہوں نے بھی پچھلے چند ماہ سے درود پاک پڑھنا شروع کر دیا، شاید 10 لاکھ سے زیادہ ہوگیا۔ ان دنوں مالی حالات خراب ہوگئے، کچھ قرض بھی ہوگیا۔ اس کے باوجود ان کا دل مطمئن تھا کہ درود پاک کی برکت سے ان شااللہ بہتری ہوگی اور پھر اچانک ان کے پرانے شاگرد کا برسوں بعد خط آگیا جس میں اتنی رقم کا چیک تھا، جتنی انہیں ضرورت تھی۔
ڈاکٹر امجد ثاقب یہ واقعہ سناتے ہوئے نمناک ہوگئے۔ کہنے لگے کہ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے یہ سعادت مجھے بخشی، ورنہ درودپاک کے صدقے ان استاد صاحب کا مسئلہ تو حل ہو ہی جانا تھا، چاہے کسی اور کے ذریعے ہوتا۔ اسی انٹرویو کے آخر میں ڈاکٹر صاحب سے سوال پوچھا کہ آپ کا سب سے بڑا خوف کیا ہے۔ ڈاکٹرامجد ثاقب کا جواب تھا، یہ خوف کہ اللہ پاک خلق خدا کی خدمت کی سعادت میرے ہاتھ سے لے کر کسی اور کو نہ دے دے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ یہ جواب سن کر میں کئی لمحوں تک چپ چاپ بیٹھا رہا اور پھر خاموشی سے اٹھ کر واپس آ گیا۔
دوسرا واقعہ بھی درود شریف کی برکات کا ہے۔ یہ پہلے سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ میں ان دنوں ایکسپریس اخبار میں شعبہ میگزین کا ہیڈ تھا،اخبار میں کالم بھی لکھا کرتا تھا۔ ان دنوں خطوط کا رواج تھا، پڑھنے والے بعض لوگ خط لکھ دیا کرتے تھے۔ ایک روز ایک خط ملا، جس میں ایک حیران کن مگر دلگداز واقعہ رقم تھا۔ لاہور سے گھنٹے ڈیڑھ کے فاصلے پر موجود ایک بڑے شہر سے کسی صاحب نے خط لکھا۔
میں بعد میں ان سے ملنے گیا اور تفصیلی ملاقات کر کے اس واقعے کی تصدیق بھی کی۔ انہوں نے حلفیہ یقین دلایا تھا۔ بہت سال ہوگئے، وہ صاحب اب دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔
اپنے خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ میرا تعلق سلسلہ نقشبندیہ سے ہے، پھرلکھا، ’میری شروع سے عادت رہی کہ درود پاک کثرت سے پڑھا جائے۔ میں شہر میں حلیم چاول کی ریڑھی لگاتا ہوں۔ چھوٹا سا کرایے کا مکان ہے۔ 5 سال پہلے میں نے اپنی 2 بچیوں اور ایک بیٹے کی شادیاں کیں۔ ان شادیوں کے سلسلے میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب قرضہ چڑھ گیا۔ میں پریشان تھا کہ یہ قرضہ کس طرح اترے گا۔ اپنی طرف سے ہاتھ پاؤں مارتا رہا، مگر حلیم چاول کی ریڑھی سے ظاہر ہے محدود آمدنی ہی ہوسکتی تھی۔ کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ آخر میں نے رو رو کر، گڑگڑا کر رب تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی کہ اس ریڑھی سے تو میرا قرضہ نہیں اتر سکتا۔ آپ خود ہی اپنے غیب سے مدد فرمائیں۔ اللہ پر معاملہ چھوڑ دینے کے بعد سے مجھے عجب سا سکون محسوس ہونے لگا‘۔
ان صاحب کے مطابق ’درود پاک کثرت سے پڑھنے کا معمول جاری تھا۔ 27 اکتوبر2007 کو مغرب کے بعد کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے دروازہ کھولا تو ایک اجنبی کو سامنے پایا۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ کا نام ۔۔۔ ہے۔ میرے اثبات میں جواب دینے پر پوچھا کہ آپ حلیم چاول کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ میں نے اقرار کیا تو وہ کہنے لگے کہ چند منٹوں کے لیے مجھے اندر لے چلیں۔ میں انہیں اندر کمرے میں لے گیا۔ نووارد نے دھیمے لہجے میں پوچھا، آپ پرکس قدر قرضہ چڑھا ہوا ہے؟ میں یہ بات سن کر حیران رہ گیا، خیر انہیں جواب دیا کہ ایک لاکھ ستاون ہزار روپے۔ ان صاحب نے خاموشی سے جیب سے ایک موٹا سا لفافہ نکالا اورمجھے پکڑا دیا۔ میں نے دیکھا تو ہزار ہزار کے بہت سے نوٹ تھے۔ میں ششدر یہ سب ماجرا دیکھ رہا تھا‘۔
ان صاحب کے بقول میں نے کہا کہ آپ میرے واقف کار بھی نہیں، پہلی بار آپ کو دیکھا ہے، پھر اتنی بڑی رقم کیوں دے رہے ہیں؟ آنے والے مہمان کے چہرے پرایک عجب سی روشنی بکھر گئی، آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ چند لمحوں تک خاموش رہے، پھر بولے، ’میں لاہور میں رہتا ہوں، چند روز پہلے مجھے خواب میں ہدایت کی گئی کہ گوجرانوالہ میں فلاں شخص فلاں محلے میں رہتا ہے، وہ درود پاک کثرت سے پڑھتا ہے، روزی کے لیے حلیم چاول کی ریڑھی لگاتا ہے، اس پر اتنا قرضہ ہے، میں وہاں جا کر یہ رقم ان صاحب کو دے دوں‘۔ اتنا کہہ کر وہ صاحب خاموش ہوگئے، پھر صرف ایک جملہ بولا، یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے اس سعادت کے لیے منتخب کیا گیا۔ اتنا کہہ کر وہ صاحب اٹھے اور بولے مجھے اجازت دیں، ہو سکے تو کبھی کبھار مجھے دعا میں یاد کر لیا کریں۔ میں نے بہت اصرار کیا کہ کھانا تو کھا کر جائیں۔ نرمی سے انہوں نے معذرت کی اور بولے کہ جو کام میرے ذمے تھا، وہ ہوگیا، اب مجھے واپس جانا ہے۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہوگئے۔ ان صاحب نے خط میں لکھا کہ جب میں نے لفافہ میں رکھے نوٹ گنے تو وہ ایک لاکھ ستاون ہزار ہی تھے، ایک نوٹ کم نہ زیادہ۔خط میں یہ واقعہ تفصیل سے بتانے کے بعد لکھا کہ اللہ پر توکل کرنے والے کو کبھی مایوسی نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیے: افغانستان: فکری مغالطے، مبالغےجنہیں سمجھنا چاہیے
سچ تو یہ ہے کہ ان کا خط پڑھ کر عجب سی کیفیت طاری ہوگئی۔ دنیا میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں، جن کی بظاہر کوئی سائنسی دلیل نہیں ملتی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کالم پڑھنے والے بعض قارئین شاید زیادہ قائل نہ ہوئے ہوں ۔ ممکن ہے وہ اسے ایک من گھڑت قصہ قرار دیں یا خاکسار عامر خاکوانی پر لعن طعن بھی کر ڈالیں۔ میں تو صرف پوری ایمانداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے صرف وہی بیان کیا جو میرے ساتھ گزرا، جو میں نے دیکھا، جو میں نے سنا۔ باقی ہر ایک کو حق ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر کے مطابق کسی بات کو مانے یا نہ مانے، مگر علم کلام کا مشہور اصول ہے کہ عدم علم سے عدم وجود ثابت نہیں ہوتا۔ یعنی جن باتوں کا ہمیں علم نہ ہو، ضروری نہیں کہ وہ موجود ہی نہیں۔
یہ بات البتہ سمجھنی ضروری ہے کہ کئی بار دعا کی قبولیت میں دیر کی مخصوص وجوہات ہوتی ہیں۔ ہم اپنے خاص فریم آف مائنڈ کے ساتھ چیزوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، ہمارے نزدیک ہماری خواہشات اہم ہیں۔ نیچر کے اصول البتہ مختلف اور بڑے تناظر میں طے پاتے ہیں۔ وہاں کسی بھی انسان کی شخصیت، اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا ایک جامع نقشہ موجود ہوتا ہے۔ کبھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے کسی بندے کو مستقبل میں کوئی خاص مقام عطا کرنا چاہتے ہوں تو اسے خاص قسم کے مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ پالش ہوسکے۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ دو تین عوامل ایسے ہیں جو دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ کسی مظلوم کی آہ یا بددعا تعاقب کر رہی ہو، ہاتھ یا زبان سے کسی کی عزت محفوظ نہ رہی ہو یا پھر آمدنی میں رزق حرام کی آمیزش ہو۔ یہ وہ عوامل ہیں کہ سچے دل سے توبہ اور بعض کیسز میں مظلوم فریق کی جانب سے غیر مشروط معافی کے بغیر مشکلات یا آزمائشیں جلدی ٹلتی نہیں۔ آخری بات یہ بھی سمجھ لینی چاہیے کہ کوشش اور جدوجہد کے بغیر صرف توکل بے معنی چیز ہے۔ شیخ الحدیث علامہ انور شاہ کاشمیری کا مشہور قول ہے، ’کوشش کی انتہا کا نام تقدیر ہے‘۔ ہمارے بس میں کوشش کرنا ہے۔ جب اپنے طرف سے پورے دنیاوی اسباب کر لیے جائیں تب اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے، ان پر معاملہ چھوڑا جائے اور پھر آنے والے نتیجے کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کیا جائے۔ جب یہ تمام شرائط پوری ہوجائیں تب ’سیٹیاں بجانے‘ کا لطف ہی دوبالا ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟
یہ سیٹیاں بجانے والی بات ہمارے قبلہ سرفراز شاہ صاحب کہا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سب اللہ پر چھوڑ دو اور پھر مزے سے سیٹیاں بجاؤ۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













