الیکشن کمیشن آف پاکستان کے احکامات پر پنجاب اسمبلی کے 50 ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔ یہ کارروائی مالی سال 2024-25 کے اثاثہ جات کے گوشوارے مقررہ وقت تک جمع نہ کرانے پر عمل میں لائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے درجنوں اراکین سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل
لاہور میں پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر باضابطہ طور پر 50 ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ معطل ہونے والے ارکان میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی بھی معطل ارکان کی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی رکنیت بھی گوشوارے جمع نہ کرانے پر معطل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سردار پرویز اقبال گورچانی، سردار شیر افگن گورچانی، اپوزیشن ارکان وسیم خان بدوزئی اور عدنان ڈوگر کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی، بریت کے خلاف اپیل کا اختیار تبدیل، ضابطہ فوجداری پنجاب ترمیم بل 2025 منظور
الیکشن کمیشن کے مطابق مخصوص نشستوں پر منتخب 3 خواتین ارکان اسمبلی کی رکنیت بھی معطل کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی متعلقہ ارکان اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرا دیں گے، ان کی رکنیت فوری طور پر بحال کر دی جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے تمام 50 معطل ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلا تاخیر اپنے مالی گوشوارے جمع کرائیں تاکہ آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔














