لاہور میں بسنت کی تیاریاں شروع، پتنگوں اور ڈوروں کی قواعد و ضوابط کے تحت تیاری

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کی فضاؤں میں ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں کا جادو چھانے کو ہے، کیونکہ شہری قریباً 25 سال بعد بسنت کے جشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پنجاب حکومت نے بسنت کی بحالی کا اعلان کیا ہے، جو 6، 7 اور 8 فروری کو صرف لاہور میں منایا جائے گا۔ تاہم، ماضی کے حادثات کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت حفاظتی اقدامات اور ضابطوں کا نفاذ کیا گیا ہے تاکہ تیوہار محفوظ اور منظم رہے۔

مزید پڑھیں: بسنت 2026 کے لیے لاہور میں سخت سیکیورٹی انتظامات، پولیس نے تفصیلی پلان عدالت میں پیش کر دیا

بسنت پنجاب کی قدیم ثقافتی روایت ہے، جو موسم بہار کے جشن کے طور پر پتنگ بازی، موسیقی اور اجتماعات کے ساتھ منائی جاتی رہی ہے۔ 2005 میں دھاتی اور کیمیکل کوٹیڈ ڈورز کی وجہ سے ہونے والے حادثات اور اموات کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اب 2026 میں ’پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025‘ کے تحت یہ تیوہار دوبارہ شروع ہو رہا ہے، اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی منظوری سے یہ صرف لاہور تک محدود ہے، جبکہ باقی صوبے میں پابندی برقرار رہے گی۔

شہر کو ریڈ، یلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ریڈ زونز میں موٹر سائیکل سواروں پر انٹینا اور ہیلمٹ پہننا لازمی ہوگا۔ ڈرون نگرانی، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور کنٹرول رومز کے ذریعے حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ پتنگوں اور ڈوروں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، اور کارخانوں میں یہ سامان ایس او پیز کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔

شہریوں میں جوش و خروش پایا جاتا ہے، لیکن قیمتوں پر تشویش بھی ہے۔ کائٹ ایسوسی ایشن کے مطابق پتنگیں اور ڈوریں وال سٹی اندرون میں تیار ہونا شروع ہو گئی ہیں اور ایک تاوا گڈا 150 سے 180 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ ڈیڑھ تاوا 250 سے 270 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ سوا پیس کا ڈور کا پنا 2200 سے 2500 روپے تک مل رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے قیمتوں کے تعین کی پابندی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم غیر رجسٹرڈ دکانداروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

بسنت کے دوران چھتوں کے علاوہ پارکس اور کھلے مقامات پر بھی پتنگ بازی کی اجازت ہوگی۔ ڈی جی پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی راجا منصور نے کہا کہ پارکس میں فیملیز محفوظ طریقے سے جشن منا سکیں گی۔ حکومت نے مفت پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکلوں پر سیفٹی انٹینا لگانے کی مہم بھی شروع کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا

پنجاب پولیس نے دھاتی ڈور اور غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق صوبہ بھر میں کسی بھی غیر قانونی پتنگ بازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پہلے 18 دنوں میں لاہور سمیت صوبے بھر میں 357 افراد گرفتار ہوئے، 360 مقدمات درج کیے گئے اور 30 ہزار سے زائد پتنگیں اور 676 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔

بسنت کی بحالی لاہور کی ثقافتی شناخت کی حفاظت اور مقامی معیشت و سیاحت کے فروغ کا باعث ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ قوانین کی پابندی کریں تاکہ تیوہار خوشیوں کا سبب بنے، نہ کہ تلخیوں کا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بالی ووڈ میں فطری خوبصورتی کی واحد مثال کون؟ فرح خان کا چونکا دینے والا بیان

مہاراشٹر: نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا طیارہ حادثے کا شکار، 5 افراد ہلاک

برطانیہ میں غربت کی انتہا: نئی تصویر سامنے آ گئی، بنگلہ دیشی اور پاکستانی کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر

ٹک ٹاک سوشل میڈیا ایڈکشن کیس میں تصفیہ، میٹا اور یوٹیوب کیخلاف تاریخی مقدمہ جاری

گیس سیکٹر پر بڑھتا دباؤ، انڈرگراؤنڈ گیس اسٹوریج منصوبے کی جانب پیشرفت

ویڈیو

امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز پہنچ گیا، ایران کا بھی فوجی مشقوں کا اعلان، سعودی عرب کا فضائی حدود دینے سے انکار

کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ شائقینِ کرکٹ کی مختلف آرا

پاکستان کے حسن کو دریافت اور اجاگر کرنے کے عزم کیساتھ میاں بیوی کا پیدل سفر

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟