پاک فوج نے ایک برق رفتار اور انتہائی مؤثر آپریشن میں دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے بدنام زمانہ کمانڈر شنکر راج عرف زوہیر کو ہلاک کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہی دہشتگرد چند روز قبل خاران بینک ڈکیتی کا مرکزی منصوبہ ساز تھا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سی ٹی ڈی کی مستونگ میں کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک
وہی واردات جسے فورسز نے بروقت کارروائی سے ناکام بنایا اور 12 سے زیادہ مسلح دہشتگردوں کو موقع پر ہی ہلاک کیا۔
ذرائع کے مطابق شنکر راج کا اصل نام زوہیر تھا، جس نے بالی وڈ کے کردار پشپا راج سے متاثر ہوکر اپنی شناخت بدلی اور جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔ منشیات کی اسمگلنگ، مسلح کارروائیاں اور دہشتگرد نیٹ ورک کی قیادت ہر سنگین سرگرمی میں اس کا کردار سامنے آتا رہا۔
سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق وہ صرف نارکوٹکس ڈیلر ہی نہیں تھا بلکہ خود بھی خطرناک نشہ آور اشیا استعمال کرتا تھا۔
خاران اور ملحقہ علاقوں میں دہشتگردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث اس شخص پر متعدد قتل کے مقدمات درج تھے اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔
دہشتگرد کے قبضے سے انڈیا، افغانستان اور ایران کی شناختی دستاویزات بھی برآمد ہوئیں، جو سرحد پار روابط اور سہولت کاری کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔
ہلاک دہشتگرد شنکر راج کے ماہ رنگ بلوچ کے قریبی خاندانی حلقے سے روابط پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ماہ رنگ بلوچ کی کزن کلثوم بلوچ سے اس کی منگنی کی بات چلی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن جدوجہد کے دعوؤں سے پردہ اٹھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس سے وابستہ شخصیات ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف انہی حلقوں کے گرد مسلح دہشتگرد عناصر کی موجودگی اور روابط مسلسل سامنے آتے رہے ہیں لیکن ان تضادات پر دانستہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
سیکیورٹی حکام کا واضح مؤقف ہے کہ بی ایل اے کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی اور خاران بینک ڈکیتی سمیت بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں گزشتہ سال دہشتگردوں کے خلاف 90 ہزار خفیہ آپریشنز، 700 سے زائد دہشتگرد ہلاک
’ریاست دشمن بیانیہ چاہے وہ بندوق کے ذریعے ہو یا نام نہاد انسانی حقوق کے لبادے میں، دونوں کو بے نقاب کیا جاتا رہے گا۔
اگر بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بیانیہ واقعی پرامن ہے تو دہشتگردوں کے ساتھ یہ روابط اور خاموشی کیوں ہے۔














