برطانوی پراسیکیوٹرز نے آبنائے کے قریب قبضے میں لیے گئے مبینہ روسی شیڈو فلیٹ آئل ٹینکر کے بھارتی کپتان پر پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔ یہ کارروائی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی تحقیقات کے بعد عمل میں آئی ہے۔
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق 38 سالہ بھارتی شہری اجے پنت پر الزام ہے کہ انہوں نے روس سے ممنوعہ تیل یا تیل کی مصنوعات کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے میں براہ راست یا بالواسطہ کردار ادا کیا، جو جون 2026 کے دوران بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر بحری امور نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ٹینکر اغوا پر رپورٹ طلب کر لی
برطانوی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک بڑے بحری آپریشن کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں برطانوی اسپیشل فورسز نے جنوبی ساحل کے قریب سمندر میں اس ٹینکر کو روک کر اس پر کنٹرول حاصل کیا۔ حکام نے اسے روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ قرار دیا ہے، جو مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیے جانے والے پرانے اور غیر واضح ملکیت والے بحری جہازوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
برطانوی وزارت دفاع کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن تھا جس میں فوجی اہلکاروں نے رات کے وقت ہیلی کاپٹر سے اتر کر جہاز پر کنٹرول حاصل کیا۔ بعد ازاں برطانوی ٹرانسپورٹ سیکریٹری نے جہاز کو تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا، جس کے بعد اسے برطانیہ کے پانیوں سے نکلنے سے روک دیا گیا۔
U.K. arrests Indian national after seizing suspected Russian shadow fleet tanker.
British authorities say the arrest followed the seizure of the tanker Smyrtos in the English Channel.
Officials accuse the vessel of helping move Russian oil while evading sanctions.
Source:… pic.twitter.com/gQesVRJbLn
— NewsForce (@Newsforce) June 18, 2026
رپورٹ کے مطابق مذکورہ ٹینکر، جو مبینہ طور پر کیمرون کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا، برطانوی حکام کے مطابق جہاز ’اسٹیٹ لیس‘ یعنی غیر واضح ملکیت کا حامل ہے اور اس وقت ویماوتھ کے قریب لنگر انداز ہے۔ جہاز میں موجود 24 افراد پر مشتمل عملہ، جن میں بھارتی اور جارجیائی شہری شامل ہیں، تاحال جہاز پر موجود ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق یہ ٹینکر روسی بندرگاہ اُست-لُوگا سے روانہ ہوا تھا اور اس کی منزل مصر کی بندرگاہ پورٹ سعید بتائی گئی تھی۔ برطانیہ نے حالیہ برسوں میں روسی شیڈو فلیٹ سے منسلک سیکڑوں جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ مغربی پابندیوں سے بچ کر تیل کی تجارت جاری رکھتے ہیں۔
اجے پنت کو آئندہ سماعت کے لیے ساؤتھمپٹن مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا، جبکہ مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔












