عین عشق کا المیہ

منگل 16 جون 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نصرت صدیقی نے کہا تھا:

یہ سارے ہارنے والے بھی میرے اپنے ہیں
کہیں میں رو نہ پڑوں تالیاں بجاتے ہوئے

ترک ڈرامے گزشتہ ایک دہائی سے دنیا بھر میں ایک الگ ہی ثقافتی دھارا بن چکے ہیں۔ مضبوط کہانیاں، جذبات سے بھرپور مناظر اور ایسے کردار جو ناظرین کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جنہوں نے پاکستانی ناظرین کو بھی ترک ڈراموں کا دیوانہ بنا دیا ہے۔ انہی مقبول ڈراموں میں ایک نام ون لو (One Love) بھی ہے، جسے ترکی میںKızılcık Şerbeti کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں بلکہ جذبات، رشتوں اور انسانی کمزوریوں کی ایک ایسی کہانی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اور گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔

لیکن بعض اوقات اسکرین پر لکھی کہانی کے پیچھے حقیقی زندگی کی حقیقتیں اچانک دستک دے دیتی ہیں اور پورا بیانیہ بدل کر رکھ دیتی ہیں۔

گزشتہ روز ’ون لو‘ کے مداح اس وقت گہرے صدمے سے دوچار ہوئے جب ایشل (Işıl) کا کردار نبھانے والی باصلاحیت ترک اداکارہ ایجے اریتم (Ece Irtem) کے انتقال کی خبر آئی۔ رپورٹس کے مطابق وہ اپنے گھر میں بے ہوش پائی گئیں، ابتدائی اطلاعات میں وجۂ وفات دل کا دورہ بتائی گئی۔ دل دہلا دینے والی بات یہ تھی کہ یہ افسوسناک واقعہ ان کی سالگرہ (14 جون 1991) کے صرف ایک دن بعد (15 جون 2026) پیش آیا، جیسے وقت نے بھی لمحہ بھر ٹھہر کر اس ٹیس کو محسوس کیا ہو۔

ایجے اریتم ان اداکاراؤں میں سے تھیں جنہوں نے مختصر وقت میں اپنی مضبوط اداکاری سے پہچان بنائی۔ ’ون لو‘ میں ایشل کا کردار ان کے فنی کیریئر کا ایک اہم موڑ تھا، جس نے انہیں عالمی ناظرین تک پہنچایا۔ ان کے اچانک انتقال نے صرف ایک کردار کو نہیں روکا بلکہ ایک پوری کہانی کے جذباتی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب مداحوں کے ذہن میں یہی سوال ہے کہ ایشل کی موجودگی کے بغیر ڈرامے کی فضا کس سمت جائے گی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ’ون لو‘ کو ایسے غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل ڈرامے کے ایک اور مرکزی کردار عبداللہ اونال (Abdullah Ünal) کے حوالے سے بھی ایک بڑا فیصلہ لینا پڑا تھا۔

ابتدا میں یہ کردار اداکار سیطار تنری اوغن (Settar Tanrıöğen) نبھا رہے تھے، مگر 2024 میں انہیں دماغی شریان پھٹنےکا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ڈاکٹروں نے مکمل آرام کا مشورہ دیا۔

صورتحال ایسی تھی کہ وہ شوٹنگ جاری نہیں رکھ سکتے تھے، اور پروڈکشن ٹیم کو ایک مشکل فیصلہ کرتے ہوئے ان کی جگہ احمد ممتاز تایلان (Ahmet Mümtaz Taylan) کو اس کردار میں شامل کرنا پڑا۔

یہ تبدیلی محض ایک کاسٹنگ ایڈجسٹمنٹ نہیں تھی، بلکہ ناظرین کے لیے ایک جذباتی جھٹکا تھا۔ ایک ایسا کردار جو ڈرامے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، اچانک نئے چہرے کے ساتھ سامنے آیا۔

ابتدا میں مداحوں نے اس تبدیلی کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی، مگر وقت کے ساتھ کہانی نے اپنا سفر جاری رکھا اور نیا اداکار بھی اسی شدت اور وقار کے ساتھ کردار میں ڈھل گیا۔

ڈرامہ انڈسٹری میں کرداروں کی تبدیلی کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن ہر تبدیلی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کبھی یہ صحت کی مجبوری ہوتی ہے، کبھی پروڈکشن کا فیصلہ، اور کبھی حالات کی سختی۔ مگر جب کوئی کردار اصل زندگی میں کھو جائے، تو وہ تبدیلی صرف اسکرین تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ناظرین کے احساسات میں گہرائی تک اتر جاتی ہے۔

ایجے اریتم کی وفات نے ایک بار پھر یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ ہم جن کرداروں سے محبت کرتے ہیں، وہ صرف کہانی نہیں ہوتے ان کے پیچھے اصل انسان ہوتے ہیں، جن کی اپنی زندگیاں، جدوجہد اور خواب ہوتے ہیں۔ اسکرین پر وہ کردار زندہ رہتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی خاموشی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔

’ون لو‘ شاید اپنی کہانی آگے بڑھا لے، نئے موڑ لے آئے، اور نئے چہرے دکھا دے مگر ایشل کی کمی ایک ایسا خلا چھوڑ گئی ہے جو صرف اسکرین پر نہیں بلکہ ناظرین کے دلوں میں بھی محسوس کیا جائے گا۔ یہی فن کی اصل طاقت بھی ہے اور اس کی سب سے بڑی اداسی بھی۔

رحمان فارس نے کہا تھا:

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp