زندگی بھر کی جمع پونجی راکھ بن گئی، لیاقت بازار کی آگ نے سینکڑوں خاندانوں کے خواب جلا ڈالے

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آنکھوں کے سامنے زندگی بھر کی کمائی جل کر راکھ ہو جائے تو انسان کے پاس آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ یہی منظر گزشتہ روز کوئٹہ کے دل لیاقت بازار میں واقع نجی علیم پلازہ میں دیکھنے میں آیا، جہاں علی الصبح بھڑک اٹھنے والی خوفناک آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سینکڑوں تاجروں کی برسوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں خاکستر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: علیم پلازہ میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا، آتشزدگی کا سبب کیا تھا؟

آگ اتنی شدید تھی کہ شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ فجر کے وقت شروع ہونے والی اس آگ نے پلازے کے 2 فلور مکمل طور پر جلا ڈالے۔ ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، تاہم تنگ راستوں اور آگ کی شدت کے باعث آگ پر قابو پانے میں 8 سے 9 گھنٹے لگ گئے۔

حکام کے مطابق پلازے میں مجموعی طور پر 400 سے 500 دکانیں موجود تھیں، جن میں سے 150 سے 200 دکانیں براہِ راست آگ کی زد میں آ کر مکمل طور پر جل گئیں۔

’یہ قرض کیسے ادا کریں گے؟‘

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے متاثرہ دکاندار نور نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ وہ فجر کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ سوشل میڈیا پر آگ لگنے کی خبر دیکھی۔ دل کانپ گیا، فوراً بھائیوں کو جگایا اور پلازے کی طرف دوڑے۔ جب پہنچے تو جس فلور پر ہماری دکان تھی وہاں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔ اندر جانا ناممکن تھا، بس کھڑے ہو کر اپنی دکان کو جلتے دیکھتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کی نیو سبزی منڈی میں آگ، ڈپٹی میئر کی ہدایت پر فائر بریگیڈ کا فوری آپریشن

انہوں نے بتایا کہ 9 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد جب آگ پر قابو پایا گیا تو وہ دکان میں داخل ہوئے، مگر وہاں کچھ بھی سلامت نہیں تھا۔ ہماری کمپیوٹر ایکسیسریز کی دکان تھی، ہر قسم کا قیمتی سامان موجود تھا۔ اندازاً 2.5 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ مال ہمارا اپنا تھا اور کچھ ادھار لیا ہوا تھا۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ قرض کیسے ادا کریں، بچوں کا مستقبل کیسے سنواریں۔

’20 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا مال جل کر راکھ ہو گیا‘

ایک اور متاثرہ تاجر عزت اللہ نے بتایا کہ پلازے میں ان کی 3 سے 4 موبائل کی دکانیں تھیں۔ ان دکانوں میں قیمتی موبائل فونز اور ایکسیسریز موجود تھیں۔ مجموعی طور پر 20 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا مال جل کر راکھ ہو گیا۔ یہ ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی تھی جو چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی۔

’اب دوبارہ زندگی کیسے شروع کریں، یہ سمجھ سے باہر ہے۔‘

متاثرہ تاجروں کا کہنا ہے کہ علیم پلازہ میں موجود بیشتر دکانیں متوسط طبقے کے لوگوں کی تھیں، جنہوں نے برسوں محنت کر کے اپنا کاروبار کھڑا کیا تھا۔ آگ نے نہ صرف ان کا سامان جلایا بلکہ ان کے خواب، امیدیں اور مستقبل کے منصوبے بھی خاک میں ملا دیے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے تباہی مچا دی، 6 افراد جاں بحق، 60 لاپتا، عمارت کے 2 حصے منہدم

متاثرین نے حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے فوری مالی امداد، نقصان کا ازالہ اور متاثرہ تاجروں کے لیے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

آگ لگنے کی ممکنہ وجہ

لیاقت بازار کوئٹہ کا قدیم اور مصروف ترین تجارتی مرکز ہے، جہاں روزانہ ہزاروں خریداروں کی آمدورفت رہتی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجوہات جاننے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔

ماضی میں بھی لیاقت بازار اور اس کے اطراف میں آتش زدگی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن کی بڑی وجہ پرانی وائرنگ، حفاظتی انتظامات کا فقدان اور تنگ گلیاں بتائی جاتی رہی ہیں، مگر اس کے باوجود تاحال کسی جامع فائر سیفٹی پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟